اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق و کردار کی تعلیم دیتا ہے۔ ان اعلیٰ صفات میں دیانت داری اور امانت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس خیانت یعنی امانت میں بددیانتی یا دھوکا دہی، نہ صرف ایک اخلاقی جرم ہے بلکہ شرعی اعتبار سے بھی سخت گناہ ہے۔ اسطرح قرآن پاک میں بھی اسکی مذمت آئی ہیں قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے : وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ترجمہ کنزالایمان : اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ ال عمران آیت 161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

خیانت کی کئی اقسام ہیں :جیسے فرض کو ترک کرنا اللہ سے خیانت کرنا ہیں سنت کو ترک کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کرنا ۔اسطرح قوم یا ادارے کی خبریں دوسری قوم یا ادارے والوں کو بتانا یہ اپنی امانتوں میں خیانت کرنا ہے اور یہ سارے جرم ہے ۔

اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے ۔اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 58)