قرآنِ کریم نے انسانی زندگی کی بنیاد امانت اور دیانت پررکھی ہے اور خیانت کو ایمان، اخلاق اور معاشرت کے لیے مہلک قرار دیا ہے۔خیانت صرف مال میں بددیانتی کا نام نہیں بلکہ احکامِ شریعت سے روگردانی، فرائض میں کوتاہی، وعدہ خلافی، اعتماد توڑنا اور نیت و نگاہ کی آلودگی بھی اسی دائرے میں شامل ہے۔اسی لیے قرآن و حدیث میں ہر سطح پر خیانت سے بچنے اور امانت کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے۔قرآنِ کریم نے خیانت کو ایک ہمہ گیر اخلاقی بیماری کے طور پر پیش کیا ہے اور انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کی متعدد صورتوں سے خبردار کیا ہے۔ذیل میں اس کی چند واضح اور نمایاں مثالیں ذکر کی جاتی ہیں:

(1)اللہ و رسول ﷺ سے خیانت :اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال : 27)

یعنی فرائض چھوڑ دینا اللہ کریم سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسول کریم ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

(2) اپنی آنکھوں کے ذریعے خیانت:اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ترجمۂ کنزُالعِرفان : اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (مومن:19)

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)

(3)عدالتی خیانت:اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء : 107)

صراط الجنان:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔(صراط الجنان، النساء ، تحت الآیت107 )

(4)اَخلاقی خیانت اور اخلاقی امانت داری :اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف : 52)

بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ کریم خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۲۵)

اس سے معلوم ہوا کہ اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے۔

(5)خیانت کا انجام:اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (الانفال : 71)

اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ﷺ اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امیدوار رہنا چاہئے۔(صراط الجنان ، الانفال تحت الآیت 71)

اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمارے ذمے آنے والی امانتوں اور ذمہ داریوں کو باخوبی ادا کرنے اور ہر قسم کی خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن ﷺ