قرآن میں ہر انسان کو امانت داری اور صداقت کی ہدایت دی
گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف قسم کی امانتیں دی ہیں، جیسے زندگی، مال،
وقت، تعلقات، علم اور بہت کچھ۔ان امانات کی حفاظت اور درست استعمال کرنا ہر مسلمان
کا فرض ہے۔ اسلام میں امانت داری ایک عظیم اخلاقی وصف ہے، جس کا دائرہ زندگی کے
تمام پہلوؤں تک پھیلا ہوا ہے۔اس کے برعکس، خیانت کسی بھی طرح کی امانت میں بددیانتی
یا دھوکہ دہی کو کہا جاتا ہے۔ یہ انسان کی روحانیت اور معاشرتی کردار کو تباہ کر دیتی
ہے، اور قرآن اس کے خلاف سختی سے منع کرتا ہے۔ خیانت کا عمل نہ صرف فرد کے ایمان
اور اخلاقی معیار کو متاثر کرتا ہے، بلکہ اس کا اثر پورے معاشرتی نظام پر بھی پڑتا
ہے لہذا ہمیں اس سے بچنا چاہیئے ۔آئیے یہ جانتے ہیں کہ خیانت کسی کہتے ہیں !
خیانت کسے کہتے ہیں:خیانت
امانت کی ضد ہے خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ
اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا !اللہ تبارک وتعالی نے
قرآن مجید میں خیانت سے منع کیا ہے ۔
اللہ تبارک وتعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل
عمران:161)
تفسیر صراط
الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ:
اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا
ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی
کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں
مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے
لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ:
۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی
مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،
چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور
طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا
واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)
Dawateislami