خرم
شہزاد عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور،
پاکستان)
حضرت فُضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں
ہوگا اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ان میں سے ایک
وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس کے شوہر نے اس کی دنیوی ضروریات
جیسے نان نفقہ وغیرہ پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب
والترہیب، کتاب البیوع وغیرہ، ترہیب العبد من الاباق من سیّدہ، ۳ / ۱۸، الحدیث: ۴)
ذٰلِكَ
لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ
الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورت
النساء آیات نمبر 107 پارہ 5 )
تفسیر صراط
الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔
بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی
پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے اس پر حضرت یوسف علیہ
الصلوۃ والسلام نے فرمایا میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز
کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں
کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی
عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن،
یوسف، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۲۵)
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور
ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں
چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورت الانفال آیات نمبر 27 پارہ 8)
تفسیر صراط
الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں
اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورت
الانفال آیات نمبر 71 پارہ 8)
تفسیر صراط
الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسول اللہ صَلی اللہُ تعالی علیہ
والہ وسلم سے خیانت کرنا ہے (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
وَ
اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ
مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان:
اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں
جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورت
المؤمن آیات نمبر 19 پارہ 24)
یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔(المؤمن:19)
Dawateislami