اصطلاح میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا ۔ ( عمدۃ القاری)

اللہ اور اسکے رسول سے خیانت نہ کرو: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 سورۃ انفال آیت نمبر 27)

وضاحت : فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى علیہ وَالِہ وَسَلَّمَ سے خیانت کرنا ہے۔

خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت نمبر 107)

وضاحت: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ جو لوگ خیانت کرتے ہیں آپ ان کی طرف سے نہ جھگڑیں۔

اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے

پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 12 سورۃ یوسف آیت نمبر 52)

وضاحت : بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصَّلوةُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کر لیا ہے ، اس پر حضرت یوسف علیہ الصَّلوة والسلام نے فرمایا" میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ۔

وضاحت: اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔ (صراط الجنان تحت ھذہ الآیۃ)

کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن نہیں:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (پارہ 3 سورۃ ال عمران آیۃنمبر161)

وضاحت: نبی علیہ السَّلام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شان نبوت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہذا اُن سے ایسا ممکن نہیں ۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔

خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے (باطنی بیماریوں کی معلومات)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے بڑے گناہ سے بچنے اور امانت دار بننے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔