قرآن کریم میں خیانت (بددیانتی اور دھوکہ دہی) کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدہ صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق خیانت کرنے والا نہ صرف لوگوں کا مجرم ہے بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عہد کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔

قرآنی آیات کی روشنی میں خیانت کی مذمت کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

(1)اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا:قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا:ترجمہ کنز العرفان : بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال ،8:58)

ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ النساء ،4:107)

ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت،ناشکرےکو پسند نہیں فرماتا۔ (سورۃ الحج ،22:38)

(2)اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت کی ممانعت:اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی امانتوں میں خیانت کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں:

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال ،8:27)

(3)خیانت کی سزا اور انجام:خیانت کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں برا ہے: ترجمہ کنز العرفان: تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃآل عمران 3:161)

رسوائی: خیانت کرنے والوں کو جہنم کے بدترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے، جیسے حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کی مثال دی گئی جنہوں نے خیانت کی اور آگ میں جھونکی گئیں۔

(4) خیانت کی مختلف صورتیں:قرآن و حدیث کی روشنی میں خیانت صرف مال تک محدود نہیں بلکہ اس کی دیگر اقسام بھی ہیں:معاہدوں کی خلاف ورزی: کسی گروہ سے کیے گئے معاہدے کو دھوکے سے توڑنا خیانت ہے۔راز افشا کرنا: کسی کے راز کو امانت نہ رکھنا اور اسے پھیلا دینا بھی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔ناپ تول میں کمی: خرید و فروخت میں دھوکہ دہی بھی خیانت کی ایک سنگین صورت ہے۔

قرآن کے مطابق خیانت ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور اسے منافقین کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔

خیانت کی قرآنی مذمت:خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو انسان کے کردار، ایمان اور معاشرے کے اعتماد کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے جگہ جگہ اس گھناؤنے عمل کی شدید مذمت فرمائی ہے اور ہر مسلمان کو اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام میں امانت داری کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اس کے بغیر ایک صالح اور مضبوط معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی لاریب کتاب میں ایک جامع حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا ترجمہ کنز الایمان :بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(سورۃ النساء، آیت 58، پارہ 5)

امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔

جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)

یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ خیانت صرف دنیا کا نقصان نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ منافق کی تین نشانیاں ہیں (1) جب بات کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے ۔ (بخاری،کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱ / ۲۴،الحدیث ۳۳)

اللہ کریم نے فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے دو وصف بیان کئے :وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۔ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں ۔(سورۃ المؤمنون آیت 8،پارہ 18)

اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۶۹، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۳ / ۳۲۱، ملتقطاً)

حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ، میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ۔تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو۔ ( مستدرک، کتاب الحدود، ستّ یدخل بہا الرجل الجنّۃ، ۵ / ۵۱۳، الحدیث: ۸۱۳۰)