قرآن مجید میں خیانت کو ایک انتہائی ناپسندیدہ اور قبیح فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف مالی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں امانتوں کی پاسداری، وعدوں کی تکمیل، اور انسانی و الٰہی حقوق کی پامالی بھی شامل ہے۔ارشاد باری تعالیٰ :(1) - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت ایک ایسا فعل ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت اور محبت سے دور کر دیتا ہے۔ جس شخص سے اللہ ناراض ہو جائے، اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

خیانت کے معاشرتی اثرات:خیانت صرف انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایک سماجی زہر ہے۔ جب کسی معاشرے میں خیانت عام ہو جاتی ہے توباہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ معاشی بدحالی کرپشن اور بددیانتی سے ملک کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔ عدل و انصاف کا قتل: جب گواہیوں اور فیصلوں میں خیانت ہوتی ہے تو مظلوم کو انصاف نہیں ملتا۔خیانت ایک بدترین اخلاقی برائی ہے جو انسان کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ ایک مومن وہی ہے جو قول و فعل میں سچا اور امانت دار ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے (چاہے وہ گھر ہو، ملازمت ہو یا عبادات) میں امانت داری کو اپنائیں اور ہر قسم کی چھوٹی بڑی خیانت سے بچیں تاکہ اللہ کی رضا اور معاشرتی امن حاصل ہو سکے۔