محمد
شعبان (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور، پاکستان )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خیانت یہ ایک بہت بری بیماری
ہے اور یہ انسان کے اچھے اخلاق کو برا بنادیتی ہے خیانت کی قرآن وحدیث میں بہت
مذمت بیان کی گئی ہے یہ ایک باطنی امراض میں سے ایک برا مرض ہے خیانت کرنے سے
انسان سے بہت سے لوگ دور ہو جاتے ہیں اور اس پر کیا ہوا اعتماد بھی کمزور ہو جاتا
ہے خیانت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا ۔ہمیں خیانت سے بچنے اور
بچانے کی کوشش کرنی چاہئے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت کرنے سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔
( 1)امانت میں خیانت نہ کرنا : وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز الایمان: اور
کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے
دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی
اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی
کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے
گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات
ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم
ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(صراط الجنان فی تفسیر القرآن، پارہ نمبر
4، سورہ آل عمران، جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 63)
(2)خیانت کرنے والوں کا ساتھ نہ دینا : وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے
کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے
کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری
کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق
مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ
کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں
گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں
، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں۔ (صراط الجنان فی تفسیر
القرآن، پارہ نمبر 5 ، سورہ النساء ،جلد نمبر 2 ، صفحہ نمبر 333)
(3) اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی
طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)
جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے خیانت کی مذمت بیان
فرمائی ہے ہمیں اس کو سامنے رکھتے ہوئے خیانت کرنے سے بچنا چاہیے اور دیگر لوگوں
کو اس سے بچنے کی ترغیب دلانی چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت کرنے سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami