ابو
صَفی محمد علی(درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
خیانت ایک ایسی اخلاقی بیماری ہے جو فرد کے باطن کو
کھوکھلا اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسلام نے جس طرح امانت کو ایمان
کا لازمی جزو قرار دیا ہے، اسی طرح خیانت کو صریح گناہ اور اجتماعی بگاڑ کی جڑ بتایا
ہے۔ خیانت صرف مال میں ہی نہیں ہوتی بلکہ راز، ذمہ داری، قول و فعل حتیٰ کہ نیت کی
سطح پر بھی واقع ہو سکتی ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مقامات پر نہایت وضاحت کے ساتھ خیانت
کی مذمت فرمائی ہے تاکہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزگی اور دیانت
کے اصولوں پر استوار کرے۔
امانت میں خیانت کی ممانعت:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)
اس آیت میں خیانت
کو محض اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ اللہ اور رسول ﷺ سے بے وفائی قرار دیا گیا ہے، جو
اس کے سنگین روحانی انجام کی طرف واضح اشارہ ہے۔
نبی کا خیانت کرنا ممکن نہیں:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی
پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی
چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ آلِ عمران: 161)
اس آیت میں خیانت
کے اخروی انجام کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان دنیا کی وقتی منفعت کے مقابلے
میں قیامت کی رسوائی کو محسوس کر لے۔
قرآنِ کریم کی یہ روشن ہدایات واضح کرتی ہیں کہ خیانت ایمان
کے منافی، عدل کے خلاف اور معاشرتی زوال کا سبب ہے۔ جو فرد یا قوم خیانت کو معمول
بنا لے، اس کے ہاتھ سے اعتماد، برکت اور عزت چھن جاتی ہے، جبکہ امانت و دیانت وہ
اوصاف ہیں جو انسان کو اللہ کے قرب اور مخلوق کے اعتماد دونوں سے ہمکنار کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اہلِ بصیرت خیانت سے بچنے کو محض اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ نجاتِ دنیا
و آخرت کا راستہ سمجھتے ہیں۔
Dawateislami