ابو
الحسن خیر بخش عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان )
خیانت ایک ایسا قبیح فعل ہے جو نہ صرف انسان کے کردار کو
داغدار کرتا ہے بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتا ہے، امانت داری ایک مؤمن کی
پہچان اور ایمان کا اہم حصہ ہے، جبکہ خیانت ایمان کی ضد ہے، اسلام نے جہاں عدل،
صداقت اور دیانت کی تعلیم دی ہے، وہیں خیانت کو سخت گناہ اور نفاق کی علامت قرار دیا
ہے۔ایک صالح اور بااعتماد معاشرہ کی تشکیل کے لیے خیانت سے بچنا اور امانت کی
پاسداری لازم ہے۔
قرآن کریم و احادیث طیبہ میں خیانت کو سختی سے منع کیا گیا
ہے اور اسے منافقین کی علامت قرار دیا گیا ہے،خیانت خواہ مال میں ہو، راز میں ہو یا
امانت میں ،لھذا ہر صورت میں مذموم ہے ۔
(1)اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (سورۃ الانفال، پ 8،تحت الآیۃ 27)
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ ( تفسیرِ خازن)
(2)اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز العرفان:بیشک
اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔(سورۃ النساء ،پ
5،آیت 107)
خیانت
کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت : اس سے وکالت کا پیشہ کرنے
والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا
موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو
مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے،
جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا
مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے
ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں
:
حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو خیانت کرنے والے کی
پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، 3 / 93، الحدیث:
2716)یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام ہے۔
(3)اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور
کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو
لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا
بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(سورۃ آل عمران ،پ 3،آیت 161)
نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ
شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے
معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت
کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔
شانِ نزول: ایک
جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ
نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران،
تحت الآیۃ: 161،1 / 505)
خیانت کی مذمت : اس آیت میں خیانت کی
مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،
چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور
طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، ص1532، الحدیث:
63(2765)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار
نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند
امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر،4 / 271، الحدیث:
12386)
حضرت ابو
امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔(مسند امام
احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، 8 / 276، الحدیث: 22232)
خیانت ایک سنگین اخلاقی و دینی جرم ہے جسے قرآن مجید میں
سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بار بار تاکید فرمائی ہے کہ وہ
امانتوں میں خیانت نہ کریں، کیونکہ خیانت نہ صرف دنیا میں اعتماد کو ختم کرتی ہے
بلکہ آخرت میں سخت گرفت کا باعث بنتی ہے۔ جو قومیں خیانت کو معمولی سمجھتی ہیں، وہ
زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ امانت و دیانت کو اپنی
زندگی کا اصول بنائے اور ہر قسم کی خیانت سے بچتا رہے۔
Dawateislami