خیانت ،امانت و دیانت کی ضد ہے اور نہایت قبیح اور مذموم صفت ہے۔خیانت منافقت کی علامت ہے۔خیانت کی تعریف کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَهُوَ التَّصَرُّفُ فِي الأَمَانَةِ عَلَى خِلَافِ الشَّرْعِ ترجمہ: "شرعی اجازت کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔"

خیانت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ خیانت انسان کے کردار کو مجروح کرتی ہے ،خائن سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔خیانت صرف مال میں نہیں ہوتی بلکہ اللہ پاک نے جو نعمتیں عطا فرمائیں ان کو رضائے الٰہی کے خلاف کاموں میں استعمال کرنا ،کسی نے راز کی بات کی تو اس کا راز فاش کر دینا ،کسی نے مشورہ طلب کیا اسے غلط مشورہ دینا ،کسی کو ذمہ داری سونپی گئی اس ذمہ داری کو صحیح انجام نہ دینا بھی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔غرض خیانت کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں خیانت کی مذمت میں مختلف قرآنی آیات نازل فرمائی ہیں جیسا کہ :

(1) ارشاد باری تعالیٰ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (انفال:27)

اس آیت کے تحت صراط الجنان میں ہے :فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے (صراط الجنان،ج 3،ص 543)

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(انفال:58)

(3) مضمون کے شروع میں جیسا کہ بیان کیا گیا کہ اللہ پاک کی نعمتوں کو مرضی الٰہی کے خلاف استعمال کرنا بھی خیانت میں آتا ہے چنانچہ اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک نعمت آنکھ کی خیانے کو بیان کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔(المؤمن:19)

آنکھ کی خیانت سے کیا مراد ہے اس بارے میں تفسیر خازن میں ہے: وَهِيَ مُسَارَقَةُ النَّظَرِ إِلَى مَا لَا يَحِلُّ یعنی آنکھ کی خیانت سے مراد یہ ہے کہ اس چیز کی طرف دیکھنا جس کا دیکھنا حلال نہیں۔(تفسیر خازن ،ج 4 ،ص 71 ،المکتبۃ الشاملہ)

(4)خیانت خود تو ایک برا کام ہے ہی بلکہ خائنوں کا ساتھ دینا بھی بر ا کام ہے۔ اللہ پاک نے خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے والوں کی مذمت بھی بیان فرمائی چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء:107)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں۔(صراط الجنان، ج2،ص 296،297)

(5)اللہ پاک خیانت کرنے والوں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان : اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل عمران:161)

اس آیت مبارکہ کے تحت علامہ عبد اللّٰہ بن محمود نسفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : يَأْتِ بِالشَّيءِ الَّذِي غَلَّهُ بِعَيْنِهِ حَامِلًا لَهُ عَلَى ظَهْرِهِ كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ، أَوْ يَأْتِ بِمَا احْتَمَلَ مِنْ وَبَالِهِ وَإِثْمِهِ۔ یعنی (خائن) بعینہ اس شے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر آئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہو گی جیسا کہ حدیث میں ہے یا اس خیانت کا جو وبال اور گناہ ہے وہ اٹھا کر آئے گا۔(تفسیر النسفی،ج 1،ص 307)

خیانت کے اسباب اور علاج: خیانت کے مختلف اسباب ہیں۔ ذیل میں چند اسباب اور علاج ذکر کیے جاتے ہیں۔

(1)خیانت کا پہلا سبب بد نیتی ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی نیت درست رکھےاور اپنا یہ ذہن بنائے کہ "اللہ عزوجل میری حسنِ نیت اور ایمان داری کی بدولت دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمانے پر قادر ہے لہذا خیانت کر کے دنیوی و اخروی نقصان کا کیا فائدہ؟۔

(2) خیانت کا دوسرا سبب دھوکہ دینے کی عادت ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے ذہن میں دھوکہ دہی کے نقصانات کو پیشِ نظر رکھے کہ دھوکہ دینا ایک نہایت قبیح اور برا عمل ہے، دھوکہ دینے والے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براءت کا اظہار فرمایا ہے۔

(3)خیانت کا تیسرا سبب توکل علی اللہ کی کمی ہے: کیونکہ بندہ اپنے کمزور اعتقاد کی بناء پر یہ سمجھتا ہے کہ خیانت کا راستہ اختیار کرنے میں ہی میری کامیابی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اللہ عزوجل پر کامل بھروسہ رکھے اور یہ مدنی ذہن بنائے کہ "دنیا میں جو بھی راستہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کا سبب بنتا ہو اس پر چل کر مجھے کبھی بھی کامیابی نہیں مل سکتی، لہذا میں اس خیانت والے راستے کو چھوڑ کر دیانت والے راستے کو اپناوں گا۔"

(4)خیانت کا چوتھا سبب نفسانی خواہشات کی تکمیل ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے ،اس کے مکر و فریب سے آگاہی حاصل کرے ،اس کی نا جائز خواہشات کو ترک کرنے کا ذہن بنائے اور اس کیلئے کوشش بھی کرے تاکہ خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے بچ سکے۔

(5)خیانت کا پانچواں سبب مسلمانوں کو نقصان دینے کی عادت ہے: یہ سبب جن دیگر باطنی امراض کا باعث بنتا ہے ان میں سے ایک خیانت بھی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے اندر مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرے اور مسلمانوں کی بدخواہی کے عذابات پیش نظر رکھے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،ص 177،178،179)

ان دنیاوی و اخروی کو نقصانات کو سامنے رکھ کر ہمیں خیانت جیسے مذموم کام سے بچنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے ،اپنے تمام معاملات میں دیانت داری سے کام لینا چاہیے ۔اللہ پاک ہمیں دیانت داری اپنانے اور خیانت سے بچنے کی سعادت عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم