ساجد
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد ، کراچی، پاکستان )
اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس نے اپنے متعلقہ افراد کی
ہر طرح سے رہنمائی کی ہے اور ہر ایک چیز کو تفصیلاً بیان کیا ہے چاہے اس کا تعلق
عبادت سے ہو یا معاملات سے ہو یا اخلاقیات سے ہو انہی میں سے ایک چیز خیانت بھی ہے
یہ ایک باطنی بیماری ہے اور ایسا برا وصف ہے جو نہ تو شرعاً اچھا ہے نہ ہی عقلاً
درست ہے۔
سب سے پہلے ہم خیانت کی تعریف ذکر کرتے ہیں پھر اس کی
مذمت پر قرآنی آیات پیش کرتے ہیں ۔
خیانت کی تعریف:’’اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)
خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی
معلومات ص176)
اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام قرآن مجید میں متعدد جگہ خیانت
کی مذمّت کو بیان فرمایا ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
(1) جو خیانت کی روز قیامت اس کے ساتھ آئے گا:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران آیت
161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت
کرے گا وہ کل بروز قیامت اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے سے منع کرتے
ہوئے ارشاد فرمایا :
(2)خیانت کرنے سے بچنے کا حکم:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر
اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال آیت 27)
(3)خیانت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں
ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔ (النساء آیت 107)
(4)خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:اس
سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو
معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم
کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف
سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن
کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
اس فرمان کو بغور پڑھیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور
ہمیں امین بنائے۔
Dawateislami