اللہ پاک کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرمائی اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن میں ہمارے لیے گناہوں اور برائیوں کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے مکمل روشنی اور نور موجود ہے ۔

اسی نور کی ایک کرن یہ بھی ہے کہ خیانت جیسی برائی کی مذمت بیان فرما کر مومنوں کو اس سے بچنے کا حکم دیا چنانچہ رب کریم ارشاد فرماتا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورت انفال پارہ 9آیت 27 )

اللہ پاک نے اس آیت مبارکہ میں بطورِ خاص ایمان والوں کو مخاطب کرکے تین طرح کی خیانتوں سے منع فرمایا :(1)اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں ہم پر فرض کی ہیں ان کو چھوڑنے کے ذریعے خیانت نہ کرو۔(2)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو چھوڑ کر خیانت نہ کرو۔(3)اور آپس کی امانتوں میں خیانت نہ کرو۔

ایک شخص کے لیے اس سے بڑھ کر ناکامی کیا ہوسکتی ہے کہ اسکا رب ہی اسکو ناپسند کرتا ہواور خیانت کرنے والے کو رب تعالیٰ کو پسند نہیں فرماتا ۔جیسا کہ ارشاد فرمایا :-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(پارہ 5 سورۃ النساء آیت 107)

یاد رکھیں!مکار کا انجام خراب ہی  ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں ہے:وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ۔(پارہ 12 سورۃ یوسف آیت 52)

تو غور کریں خیانت کرنے والے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں تو ایک مسلمان کی شان یہ نہیں ہوسکتی کہ کسی سے خیانت کرےکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جاسکتا ہے سوائے جھوٹ اور خیانت کے۔(تفسیر در منثور جلد 4صفحہ 318)

اللہ پاک ہمیں اس بری خصلت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔