اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں امانت داری کو ایمان کی علامت اور خیانت کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے۔ خیانت فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، اسی لیے قرآن نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔

خیانت کا مفہوم:خیانت کے معنی ہیں امانت میں کمی کرنا، وعدہ توڑنا یا اعتماد کو ٹھیس پہنچانا۔ شریعت میں مال، راز، ذمہ داری اور عہد میں بددیانتی سب خیانت میں شامل ہیں۔

قرآنِ مجید میں خیانت کی ممانعت:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)

ایک اور مقام پر فرمایا:بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال: 58)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ خیانت اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے۔

خیانت اور امانت داری:قرآنِ کریم میں امانت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ امانت داری کے بغیر معاشرے میں عدل و اعتماد قائم نہیں رہ سکتا۔

خیانت کا انجام:قرآنِ مجید میں خیانت کرنے والوں کے انجام کے بارے میں فرمایا گیا:ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا (سورۃ آلِ عمران: 161)

قرآنِ مجید کی روشنی میں خیانت ایک سنگین اخلاقی برائی ہے۔ ایک صالح معاشرے کی بنیاد امانت داری اور دیانت پر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہر قسم کی خیانت سے بچیں اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔