اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اخلاق، کردار اور معاملات میں پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں جن اخلاقی برائیوں کی مذمت کی گئی ہے، ان میں سے ایک خیانت بھی ہے خیانت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی کی امانت، اعتماد یا ذمہ داری کو پورا نہ کرے اور جان بوجھ کر بددیانتی کا ارتکاب کرے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایمان والوں کو خیانت سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ انفال آیت58)

اس آیت کی تفسیر میں امام ابو جعفر طبری لکھتے ہیں:اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں سے اپنی ناراضی کا اعلان فرما رہا ہے جو عہد و پیمان میں خیانت کرتے ہیں کیونکہ خیانت اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے۔

(جامع البیان عن تأویل آیۃ القرآن، جلد 10، صفحہ 54،دار ہجر)

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃآل عمران، 161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴ / ۲۷۱، الحدیث: ۱۲۳۸۶)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین