محمد
اسلم (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
خیانت انسانی معاشرے کی ان برائیوں میں سے ایک ہے جو
اعتماد، محبت اور عدل کی بنیادوں کو کمزورخیانت کر دیتی ہے۔ جب امانت میں بددیانتی،
وعدوں کی خلاف ورزی اور حقوق کی پامالی عام ہو جائے تو فرد کا کردار اور معاشرے کا
سکون دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اسلام نے خیانت کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور
امانت و دیانت کو ایمان کا حصہ بتایا ہے۔ اسی لیے خیانت کے اسباب، اس کے نقصانات
اور اس سے بچنے کی اہمیت کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔
خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۵)
خیانت کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی
معلومات،صفحہ۱۷۶)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(پ۹،
الانفال: ۲۷)
(اِنَّ
اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجَمۂ کنزُ الایمان:بیشک اللہ تمہیں
حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو۔
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ
کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی
طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو
پسند نہیں کرتا۔
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور
ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں
چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔
نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور ﷺ کاارشادِ حقیقت بنیاد
ہے: ’’تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز،رو زہ کا
پابند ہی کیوں نہ ہو: (۱)جب بات
کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب
وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (۳)جب
امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۶)
الغرض، خیانت ایک ایسا مہلک اخلاقی مرض ہے جو فرد کے ایمان،
معاشرے کے امن اور باہمی اعتماد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ قرآن و سنت نے خیانت کو
سخت ناپسندیدہ قرار دے کر امانت، دیانت اور وفاداری کو مومن کی پہچان بنایا ہے۔ جو
شخص امانت کی حفاظت کرتا ہے وہ اللہ کی رضا اور لوگوں کے اعتماد کا حق دار بنتا
ہے، جبکہ خیانت کرنے والا دنیا و آخرت میں رسوائی کا سامنا کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہر حال میں امانت کی پاسداری کریں، وعدوں کو نبھائیں اور اپنے کردار کو
صداقت و دیانت سے آراستہ کریں، کیونکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد امانت اور سچائی ہی
پر قائم ہوتی ہے۔
Dawateislami