مرزا
عزیر بیگ (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد، کر اچی ، پاکستان)
دین اسلام ایک کامل دین ہے جس کے ہر ہر پہلوں میں ایک
قسم کی خوشبوں کا احساس ہے۔دین اسلام ایسا کامل دین ہے کہ یہ انسان کے لئے زندگی
کے ہر ہر گوشے میں رہنمائی کرتا ہے عبادت سے لے کر معاملات تک ہر ہر رہنمائی موجود
ہے۔دین اسلام بندے کو ہر ہر بڑائی سے دوڑ رکھتا ہے۔انہی بڑائی میں سے ایک قسم خیانت
کی بھی ہے۔حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق ایسے بندے کو منافق عملی قرار دیا گیا ہے
جیسا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے منافق کی علامتیں تین ہیں: جب
بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت
کرے۔ (صحيح البخاری،كتاب الايمان،حدیث: 33)
قرآن کریم میں بھی خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہے جیساکہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ
قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے
پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ
جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
اسی طرح اللہ
تعالیٰ نے ایک اور مقام پر اپنے نبیوں ذریعے امت کی رہنمائی فرمائی ارشاد باری
تعالیٰ ہے :
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ
قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس
کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل
عمران:161)
ان آیتوں سے ہمیں پتا چلا کہ خیانت ایک بہت ہی ناپسندیدہ
عمل ہے۔جس سے ہمیں ہر حال میں بچنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami