خیانت اس کو کہتے ہیں کہ کسی کی امانت، بھروسہ، وعدہ یا ذمہ داری کو جان بوجھ کر توڑ دیا جائے یا اس کے خلاف عمل کیا جائے، چاہے وہ مال میں ہو، بات میں ہو، راز میں ہو یا کسی کام میں۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ امانت میں خیانت کرنا اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے ۔

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)خیانت کرنے والا اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور یہ بہت بڑا نقصان ہے۔

(3) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا(سورۃ آلِ عمران، آیت 161)خیانت کا انجام آخرت میں رسوائی اور حساب ہے۔

(1)رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ترجمہ:جو تمہیں امانت دے، اس کی امانت ادا کرو، اور جو تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت نہ کرو۔(سنن ابوداؤد، حدیث: 3534)یہ حدیث بتاتی ہے کہ مسلمان کا کام ہر حال میں امانت داری ہے، چاہے سامنے والا خیانت کرے، تب بھی ہمیں خیانت کی اجازت نہیں۔

(2)حضور نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا:لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُجس میں امانت داری نہیں، اس کا (کامل) ایمان نہیں۔خیانت کرنا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، سچا مومن وہی ہے جو امانت دار ہو۔ (مسند احمد، حدیث: 12567)

(3)نبیِّ پاک ﷺ نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَترجمہ :منافق کی تین نشانیاں ہیں… اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 33،صحیح مسلم، حدیث: 59)خیانت منافقت کی علامت ہے، اس لیے مسلمان کو اس بری عادت سے بچنا لازم ہے۔

رُوِيَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ مُوَكَّلًا بِشَيْءٍ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي زَمَنِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا لِنَفْسِهِ، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هٰذِهِ خِيَانَةٌ، وَإِنَّ الْخَائِنَ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَا خَانَ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَدِّهِ إِلَى بَيْتِ الْمَالِ وَنَبَّهَهُ تَنْبِيهًا شَدِيدًا

روایت ہے کہ امیرُالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص بیتُ المال کے ایک کام پر مقرر تھا۔ اس نے اس میں سے کوئی چیز اپنے لیے لے لی۔ جب یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:“یہ خیانت ہے، اور بے شک خیانت کرنے والا قیامت کے دن اپنی خیانت کو ساتھ لے کر آئے گا۔”پھر آپ نے وہ چیز بیتُ المال میں واپس کرنے کا حکم دیا اور اسے سخت تنبیہ فرمائی۔

(فیضانِ سنت،باب: امانت داری اور خیانت کی مذمت، ناشر: مکتبۃُ المدینہ، دعوتِ اسلامی)