تمام تعریفیں اُس ربِ عظیم کے لیے ہیں جو دلوں کے حال جانتا ہے، اور درود و سلام ہو اُس نبیِ کریم ﷺ پر جو امانت و دیانت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق، سچائی، وفا اور امانت داری کا درس دیتا ہے۔ جہاں صدق و دیانت کو جنت کی کنجی کہا گیا ہے، وہیں خیانت کو جہنم کا راستہ بتایا گیا ہے۔ خیانت صرف امانت میں بددیانتی نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا زہر ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے خیانت ایک باطنی بیماری اور ایسا برا ومذموم وصف ہے جو نہ تو شرعاً درست ہے نہ ہی عقلاً درست ہے۔سب سے پہلے ہم خیانت کی تعریف کرتے ہیں پھر اس کی مذمت پر قرآنی آیات پیش کرتے ہیں

خیانت کی تعریف:’’اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات ص176)

(1)خیانت کو ترک کرنے کا حکم :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال،آیت:27)

فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ فرائض وسنت کوترک کرنا مؤمن کی شان کے لائق نہیں۔ مؤمن کو چاہیے کہ فرائض وسنت کو ادا کرکے اللہ ورسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو امانت و دیانت داری کا ثبوت دےاور لوگوں کی امانتوں میں خیانت نہ کرکے امین ہونے کا ثبوت دے ۔

(2)خیانت کرنے والوں کو اللہ جانتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(المؤمن،آیت:19)

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

پتا چلا خیانت بہت برا وصف خیانت انسان کے مختلف اعضاء سے واقع ہوتی ہے جیسے اس آیت میں آنکھوں اور سینوں کی خیانت کا پتا چلا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ جل مجدہ ہر اعضاء کی خیانت کو جانتا ہے مؤمن کو چاہیے کہ اللہ پاک کہ ڈر سے اپنے اندر امانت و دیانتداری جیسے پیارے وصفوں کو پیدا کرے اسکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے روز کہ اعمال جائزہ لے سوچے کہ کہیں میں نے آج اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت تو نہیں کی کہیں لوگوں سے انکی امانتوں میں خیانت تو نہیں کی امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے ہم گنہگاروں کو سنت کا پابند بنانے کے لیے ہمیں نیک اعمال جیسا بہترین رسالہ عطا فرمایا ہے جس میں ہم اپنے روز کے اعمال کا جائزہ لے سکتے ہیں باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دیتے ہوئے اس رسالہ کو خریدیں اسکے مطابق اپنے شب وروز گذاریں۔

(3) اللہ کو خیانت کرنے والے پسند نہیں :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء،آیت،107)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں سوچیں سمجھیں اور خیانت جیسے برے وصف سے بچیں۔

(4) اللہ خائن کے مکر کو چلنے نہیں دیتا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یُوسف،آیت:52)

تفسیر صراط الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔ اَخلاقی خیانت مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابلِ تعریف وصف ہے:اس سے یہ بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداریایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئےیہ تمام آیات اسی بات کو ثابت کرتی ہیں کہ مسلمان صرف نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ عملی اعتبار سے بھی مسلمان لگنا چاہیے کہ ہر عمل اس بندہ کے سچے مؤمن ہونی کی نشان دہی کرے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ ان آیات اور ان جیسی دیگر آیات کا بار بار مطالعہ کریں تاکہ خیانت جیسے برے ومذموم وصف سے بچیں کیونکہ خیانت جہاں دنیا میں انسان کی رسوائی کا سبب بنتی ہے وہیں اسکی آخرت کو بھی برباد کر دیتی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو امانت و دیانت کا اعلیٰ نمونے بنائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔