اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ اخلاقیات
میں بھی انسان کی راہنمائی کرتا ہے۔ قرآنِ مجید نے جہاں عدل، امانت، دیانت، وفا
اور صداقت کو سراہا ہے، وہیں خیانت، جھوٹ، ظلم اور بددیانتی جیسے افعال کی سخت
مذمت بھی کی ہے۔ خیانت، انسان کے کردار کی پستی اور معاشرتی بگاڑ کی علامت ہے۔
جب ایک معاشرہ خیانت میں مبتلا ہو جائے تو اعتماد، امن
اور انصاف جیسی اقدار ختم ہو جاتی ہیں، اور نتیجہ تباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
اسی لیے قرآن کریم میں خیانت کو نہ صرف ایک قبیح عمل قرار دیا گیا ہے بلکہ اس کے
مرتکب افراد کو سخت تنبیہ بھی کی گئی ہے۔
ذیل میں خیانت کے حوالہ سے قرآن پاک کی چند آیات پیش
خدمت ہیں ۔
(1) خیانت سے ایمان والوں کو روکا گیا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ ( سورۃانفال آیت نمبر 27)
(2) خیانت کرنے والوں کی حمایت سے منع فرمایا: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز العرفان:اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے
ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ
النساء آیت نمبر107)
(3) خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلتا :وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)ترجمہ کنز الایمان: اللہ دغا
بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 52)
(4)خیانت اور ناشکری اللہ کو ناپسند ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸)ترجمہ کنز العرفان:بیشک
اللہ ہر بڑے بددیانت ، ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔(سورت الحج آیت نمبر 38)
جیسا کہ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں ہمیں بتایا گیا ہے
کہ امانتوں کی حفاظت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ خیانت
ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ خود اس کرنے والے کے لیے
عذاب کا باعث بھی بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ امانتوں کو اپنی اصل رکھنے
والوں کو واپس کرو اور خیانت نہ کرو۔ یہ نصیحت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں ہر قسم کی
بے ایمانی، دھوکہ دہی اور فریب سے دور رہنا چاہیے۔ خیانت سے بچنا انسان کی کردار
سازی کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ ایک دیانت دار اور امانت دار فرد بن سکے۔ دنیا میں
امانت داری سے ہی عزت ملتی ہے اور آخرت میں کامیابی بھی اسی سے جڑی ہے۔ اس لیے ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنے افعال پر غور کریں، دل کو صاف رکھیں اور ہمیشہ سچائی اور انصاف
کے راستے پر چلیں۔ خیانت نہ صرف معاشرتی زوال کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ انسان کی اپنی
عزت کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اس لیے قرآن کی تعلیمات کو اپنا کر، ہم اپنی زندگیوں کو
بہتر بنا سکتے ہیں اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں
خیانت سے بچتے ہوئے دوسروں کے ساتھ امانت داری و سچائی کے ساتھ پیش آنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبیین وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
خیانت کا مطلب ہےامانت، اعتماد یا وعدے کو توڑ دینا، یا
کسی پر کیے گئے بھروسے کو دھوکہ دینااسلامی اصطلاح میں خیانت ہر اُس عمل کو کہا
جاتا ہے جس میں کسی کی دی گئی ذمہ داری، امانت، یا اعتماد کو جان بوجھ کر ضائع کیا
جائے، چھپایا جائے، یا اس سے انحراف کیا جائےیہ عمل صرف مال یا امانت میں نہیں،
بلکہ رشتوں، وعدوں، تعلقات، اعتماد، حتیٰ کہ دین میں بھی ہو سکتا ہے۔مثلاً کسی کی
امانت واپس نہ کرنا ازدواجی تعلق میں بے
وفائی کرنا ،وعدہ خلافی کرنا ،جھوٹ بول کر دھوکہ دینا ۔قرآن و حدیث میں خیانت کو
منافق کی علامت اور اللہ و رسول سے دشمنی قرار دیا گیا ہے قران پاک میں بھی اللہ
پاک نے خیانت کی مذمت فرمائی ہے حدیث مبارکہ پیش کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا
:
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنزُ الایمان: اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو
اپنے جی سے خیانت کرتے ہیں، بے شک اللہ کو پسند نہیں جو بڑا خیانت کرنے والا، بڑا
گناہ گار ہو ۔(النساء:107)
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ
تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا ترجمہ کنزُ الایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن
کی ہیں انہیں سپرد کرو ۔(النساء:58)
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں
خیانت کرو۔ (انفال:27)
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ خیانت اللہ اور رسول کے
ساتھ دغا بازی کے مترادف ہے، اور مومن کو اس سے بچنا لازم ہے ۔حدیث پاک میں بھی خیانت
کے بارے میں مذمت ملتی ہیں :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ،
وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.
ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ
بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح
البخاری: حدیث نمبر33 ، صحیح مسلم: حدیث نمبر 59)
یہ حدیث خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیتی ہے، جو کہ
نہایت سنگین گناہ ہے۔
ایک اور حدیث خیانت کے بارے میں پیش ہےکہ :لَا إِيمَانَ لِمَنْ
لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ترجمہ:"جس شخص
میں امانت داری نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں؛ اور جو وعدے کا پاس نہیں رکھتا، اس
کا کوئی دین نہیں۔( سنن احمد بن حنبل: حدیث نمبر 12567 ، صحیح الجامع الصغیر حدیث
نمبر 7179)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ خیانت صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ ایمان اور دین
کے منافی عمل ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے یقینا حضور کی
باتوں پر عمل کرتے ہیں حضور نے خیانت کے بارے میں ہمیں منع فرمایا لہذا ہمیں چاہیے
کہ خیانت کرنے سے بچے اور اللہ پاک کی رضا حاصل کرے خیانت کے بارے میں ہمارے
بزرگان دین کے بھی واقعات ملتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ:
ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ
اللہ (خلیفہ راشد) کا ایک مشہور واقعہ پیش ہے، جو خیانت سے بچنے، دیانت داری اور
امانت کے احترام کی روشن مثال ہے:بیت المال کے چراغ کا قصہ ایک رات حضرت عمر بن
عبدالعزیز رحمہ اللہ حکومتی امور میں مصروف تھے اور بیت المال (سرکاری خزانے) کا
چراغ جل رہا تھا۔ اتنے میں اُن کا بیٹا آیا اور کچھ ذاتی بات کرنی چاہی۔آپ نے
فوراً چراغ بجھا دیابیٹے نے حیرانی سے پوچھا: ابا جان، آپ نے چراغ کیوں بجھا دیا؟
حضرت عمر نے فرمایا: "یہ چراغ بیت المال کے پیسے سے جل رہا ہے۔ جب میں ذاتی
بات کروں گا تو سرکاری مال استعمال کرنا خیانت ہے۔( سیراعلام النبلاء از امام ذہبی،
جلد 5، صفحہ 120 ،تاریخ الخلفاء از امام سیوطی، صفحہ 208 )
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سچے اللہ والے خیانت سے کس قدر
بچتے تھے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی چیز کیوں ہو یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خیانت
صرف بڑی رقم یا مال میں نہیں، چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی ہو سکتی ہے اور اہلِ
تقویٰ اس سے کس قدر بچتے تھے آج کا معاشرہ مالی، اخلاقی اور سماجی خیانت کا شکار
ہے۔ حکومتی سطح سے لے کر ذاتی تعلقات تک، خیانت نے بگاڑ پیدا کیا ہے۔ اگر اسلامی
اصولِ امانت داری کو اپنایا جائے تو معاشرہ عدل، سکون اور بھروسے کا گہوارہ بن
سکتا ہے۔خیانت نہ صرف ایک انفرادی گناہ ہے بلکہ اجتماعی جرم بھی ہے۔ ایک سچا
مسلمان وہی ہے جو ہر سطح پر دیانت دار ہو۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ امانت اللہ کی
طرف سے آزمائش ہے، اور اس میں خیانت کرنا نہ صرف ایمان کی کمزوری بلکہ اللہ اور
رسول سے دغا ہے۔
پس ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں دیانت، صداقت اور امانت
کو اپنائیں تاکہ ہم دنیا میں بااعتماد اور آخرت میں سرخرو ہوسکیں اللہ پاک سے دعا
ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور سیدھی راہ پر
چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
فیضان
حیدر (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور، پاکستان )
دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں
کو اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنانے کا درس دیتا ہے۔ ان اقدار میں "امانت داری"
کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، "خیانت" ایک ایسا مذموم عمل اور
اخلاقی برائی ہے جس سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔ خیانت کا مطلب ہے کسی کے
بھروسے کو ٹھیس پہنچانا یا کسی کی امانت میں بددیانتی کرنا۔ قرآن مجید میں خیانت کی
سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب قرار دیا گیا
ہے۔
(1)
یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنزُالعِرفان:اللہ آنکھوں کی خیانت
کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(پارہ نمبر 24،سورۃ المئومن،آیت نمبر
19)
(2)
وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پارہ نمبر
4،سورۃ ال عمران،آیت نمبر 161)
(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ نمبر 5،سورۃ النساء،آیت نمبر 107)
(4) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا
چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں
تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
(پارہ نمبر 10،سورۃ الانفال ،آیت نمبر 71)
(5) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا
تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور
اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔
(پارہ نمبر 12،سورۃیوسف،آیت نمبر 52)
خیانت قرآن و سنت کی روشنی میں ایک سنگین اخلاقی جرم اور
ایمان کے منافی عمل ہے جو فرد کے کردار اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتا ہے
اسلام انسان کو امانت دیانت اور عدل کا پابند بناتا ہے اور ہر قسم کی خیانت سے سختی
سے روکتا ہے کامیابی اسی میں ہے کہ مسلمان ہر حال میں امانت دار رہے حق کا ساتھ دے
اور خیانت کے ہر راستے سے خود کو محفوظ رکھے۔
سدھیر
احمد (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی،کراچی، پاکستان)
اسلام ایک ایسا خوبصورت اور پیارا دین ہے جو ہماری دنیا
کے ہر موڑ پر رہنمائی فرماتا ہے اور انسان کو اعلیٰ اخلاق دیانت اور امانت داری کی
تعلیم بھی دیتا ہے چنانچہ قرآن مجید فرقان حمید میں خیانت کی سخت مذمت کی گئی ہے ۔خیانت
بہت بری چیز ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے کیونکہ خیانت کو اختیار کرنا قرآنی
فیصلے کے برخلاف ہے اور اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے
مترادف ہے ۔
تو آئیے جانتے ہیں کہ قرآن پاک ہماری اس بارے میں کیا
رہنمائی فرماتا ہے ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان : بے شک دغا والے اللہ کو پسند نہیں ۔ (سورۃ
الانفال، آیت 58)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کا عمل اللہ کی ناراضی
کا باعث بنتا ہے ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ ( سورۃ انفال آیت نمبر 27)
اگر ہم ایک پرامن بااعتماد اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے
ہیں تو ہمیں فرداً فرداً خیانت سے توبہ کرتے ہوئے امانت سچائی اور دیانت کو اپنانا
ہوگا قرآن اور سنت ہمیں امانت دار بننے کا حکم دیتے ہیں اور یہی فلاح کی راستہ اور
مذکورہ تمام آیات بھی اسی بات پر دلیل ییں کہ تم امانت کے میں خیانت نہ کرو اور بیشک
وہ شخص کامیاب ہے جو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے
اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے اور خیانت کو ترک کرنے امانت کو اپنانے کی توفیق
عطاء فرمائے ۔
محمد
عبداللہ احسن(درجہ سابعہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی، پاکستان)
خیانت امانت کی ضد ہے ۔ خیانت ایک مذموم صفت ہے ۔ خیانت
کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی،راز،عزت،مشورے سب میں ہوتی
ہے۔ خیانت بڑی ہو یاچھوٹی بروز قیامت سزا اور رسوائی کا باعث ہے۔
خیانت کی تعریف : اجازت شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عمدۃ القاری،جلد۱صفحہ۳۲۸)
خیانت کا حکم : ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ،جلد۱،صفحہ۶۵۲)
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الا نفال،الآیۃ ۲۸)
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۸، ۱۹۰/۲)
(2) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الا نفال،الآیۃ ۵۸)
(3) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ خیانت
کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف،الآیۃ ۵۲)
(4) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنزالعرفان :اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی
جو سینے چھپاتے ہیں۔(الغافر،الآیۃ ۱۹)
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل
عمران،الآیۃ ۱۶۱)
نبی علیہ السلام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ
نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاءعلیھم الصلوۃ والسلام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا
اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور
معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض
منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔
(جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
خیانت گناہ کیبرہ
ہے:خواہ خیانت اپنے حق میں ہو یا اللہ عزوجل کے یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے یا اسلام کے یا کسی بندہ کے حق میں ہو۔خیانت جس شئے کے بارے میں بھی
کی جائے بری ہے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں
ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)
محمد
عثمان صدیق(درجہ سابعہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق، سچائی
اور امانت داری کی تعلیم دیتا ہے۔ امانت داری ایمان کی علامت ہے جبکہ خیانت ایک
سخت اخلاقی و دینی جرم ہے۔ خیانت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی کے اعتماد، مال، راز
یا ذمہ داری میں بددیانتی کرے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں خیانت کی شدید
مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے ایمان کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
(1)امانت
میں خیانت سے سخت ممانعت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔( سورۃ الانفال،
آیت: 27)
(2)خیانت کرنے والا اللہ کو پسند نہیں:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ ( سورۃ الانفال، آیت: 58)
(3)خیانت آخرت کے عذاب کا سبب ہے:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا
( سورۃ آلِ عمران، آیت: 161)
(1)خیانت منافق کی علامت ہے:حضرت
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ.. وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں
ہیں… جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الايمان،
حدیث: 33صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 59)
(2)امانت نہ ہو تو ایمان کامل نہیں:حضرت انس سے روایت
ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:لَا إِيمَانَ لِمَنْ
لَا أَمَانَةَ لَهُترجمہ:جس میں امانت داری نہیں اس کا ایمان (کامل) نہیں۔(مسند احمد،
حدیث: 12567،شعب الإيمان البیہقی )
(3)خیانت
قیامت کے دن رسوائی کا باعث ہے:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:كُلُّ غَادِرٍ
يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:ہر خیانت کرنے
والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا تاکہ وہ پہچانا جائے۔(صحیح البخاری، حدیث: 3186،صحیح مسلم، حدیث: 1738)
لہذا قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت واضح
ہوتی ہے کہ خیانت ایک سنگین گناہ، ایمان کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا
سبب ہے۔ ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں امانت داری اختیار کرے، چاہے
وہ مالی معاملات ہوں، عہدے کی ذمہ داریاں ہوں یا کسی کا راز۔ امانت داری نہ صرف دنیا
میں عزت و اعتماد کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات اور کامیابی کا۔
اسلام نے انسانی معاشرے کی بنیاد امانت داری اور سچائی
پر رکھی ہے اور معاشرے میں رہنے کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کی
ہے اور ہر انسان کی جان اور مال کا تحفظ بھی کیا ہے قران پاک اور احادیث میں جن
اعمال کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ان میں سے ایک خیانت ہے خیانت کو قرآن پاک اور
احادیث میں کسی جگہ اللہ و رسول کے خلاف عمل، کہیں منافقین کی علامت اور کہیں
ناپسندیدہ اور ملعون صفت قرار دیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آیَۃُ الُمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: أِذَا حَدَّثَ کَذَبَ،
وَأِذَا وَعَدَ خَلَفَ، وَأِذَا أُؤْتُمِنَ خَانَترجمہ:
منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے
اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان،
باب علامۃ المنافقہ، حدیث 33، صفحہ 18، دار ابن کثیر)
آئیے ایسی 5 آیات ملاحظہ کیجئے جن میں خیانت کی مذمت کی
گئی ہے:
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ ( سورۃ الانفال، آیت 27)
فرض کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ سے خیانت ہے اور سنت کو ترک
کرنا رسول اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
(2) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ
عَلٰى سَوَآءٍؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی
طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال ، آیت 58)
اس آیت میں کہا گیا کہ اللہ عزوجل خیانت کرنے والوں کو
پسند نہیں کرتا۔
(3) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ
کنزالعرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت،ناشکرےکو پسند نہیں فرماتا۔ (سورۃ الحج، آیت
38)
(4) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز العرفان: اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف، آیت
52)
(5) -وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ
تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران ،آیت
161)
ان آیات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ
عزوجل کو سخت ناپسندیدہ ہے اور اس کے علاوہ خیانت کرنے والے پر اس کے ارد گرد کے
افراد بھی اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ دیانتداری سے
کام لیں اور اصلاح کی کوشش کرتے ہوئے دوسروں کو بھی امانت داری اور سچ بولتے رہنے
کی تلقین کرتے رہیں۔آمین بجاہ النبی الامین الکریم و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
احمد
رضا (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی ، کراچی، پاکستان)
کائنات کا ہر فرد دیانت و امانتداری کو اعلیٰ اوصاف اور
عمدہ اخلاق میں سے شمار کرتا ہے جس معاشرے میں امانت کا خیال نہ رہے، وہ انتشار،
بداعتمادی اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔
خیانت کا لغوی معنی ہے: امانت میں بددیانتی کرنا، چوری
چھپے کسی کا حق چھیننا، یا کسی اعتماد کو توڑنا۔اصطلاحاً : کسی کی دی ہوئی ذمہ داری
یا امانت میں جان بوجھ کر بددیانتی کرنا، چاہے وہ مال ہو، راز ہو، منصب ہو یا قول
و عمل۔ دینِ اسلام، جو مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس نے بھی خیانت کی شدید مذمت اور
ممانعت فرمائی ہے۔اسلام میں خیانت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور یہ ایسا
عمل ہے جو نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ پاک نے
قرآن کریم میں بھی خیانت کی مذمت فرمائی ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الأنفال:
27)
یہاں
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ
سے خیانت کرنا ہے۔
خیانت کرنے والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا:-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(الانفال: 58)
اس آیت کریمہ سےمعلوم ہوا کہ خیانت کرنے والوں کو اللہ
پاک پسند نہیں فرماتا۔
خیانت کرنے والوں کی حمایت سے ممانعت:-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ
خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)
ترجمہ کنز الایمان:اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔(النساء: 105)
اس آیت میں خیانت کرنے والوں کی حمایت و طرفداری کو بھی
ناجائز قرار دے کر اس سے منع فرمایا گیا
خیانت کفار کا قدیم طریقہ:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ ترجمہ کنز الایمان:اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں۔ (الانفال: 71)
اس آیت میں کفار کی اللہ و رسول سے کی گئی خیانت کو بیان
فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ خیانت کفار کا پرانا شعار ہے ۔
اہل لوگوں کو امانتیں واپس دینے کا حکم :اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا
الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ
ترجمہ کنز الایمان:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا
ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(النساء: 58)
قیامت کے دن خیانت کا انجام:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-
ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے
گا۔(آل عمران: 161)
نبی عَلَیْہِ
السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا
ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔بلکہ
اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔
بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت
مبارکہ نازل ہوئی۔(جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
معلوم ہوا نبی عَلَیْہِ السَّلَام گناہوں سے معصوم ہیں
بلکہ گناہ اور نبوت میں وہی نسبت ہے جو اندھیرے اور اجالے میں ہے۔ اس آیت میں خیانت
کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ان آیات طیبہ سے معلوم ہوا کہ خائن اللہ پاک کہ محبت سے
محروم ہوجاتا ہے، خائن بروزِ محشر خیانت کی ہوئی چیز اپنے ساتھ لے کر آئے گا ۔خیانت
ایک ایسا گناہ ہے جو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے بلکہ دنیا میں
بھی بداعتمادی، فساد اور بگاڑ کا ذریعہ بنتا ہے کیونکہ خیانت سے برکت چھن جاتی ہے
دل سخت ہوتا ہے محبتیں ختم ہو جاتی ہیں جبکہ دیانت اور امانت داری مسلمان کے کردار
کو نکھارتی ہیں اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہیں اور اس سے قلبی سکون
حاصل ہوتا ہے کامل مسلمان وہی ہے جو امانتدار ہو، قول و عمل میں سچا ہو، اور اللہ
کی دی ہوئی ہر ذمہ داری کو امانتداری کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرے۔
محمد
مبشر عبدالرزاق عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور، پاکستان )
معاشرے کی بہتری پرسکون زندگی، امن و امان، اور حقوق کی
بقا کے لیے اس معاشرے میں رائج برائیوں کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے موجودہ دور کی
برائیوں میں سے ایک برائی خیانت کرنا بھی ہےیہ ایسابدترین گناہ ہے کہ جسے منافق کی
علامت قرار دیا گیا ہے جبکہ جس معاشرے میں امانت داری ہوتی ہے اس کو ترقی کی جانب
بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا اسی وجہ سے
قران پاک میں متعدد مقامات پر خیانت کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے آئیے ہم بھی خیانت
کا قرانی بیان پڑھتے ہیں :
خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ (عمدۃ القاری ، 1 / 347)
خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ،1/652)
(1) ناپسندیدہ عمل : خیانت
ایسی غیر اخلاقی اور قبیح بیماری ہے جس کو اللہ پاک بالکل پسندنہیں کرتا :
-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنزالعرفان : بیشک
اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(پ 10 انفال 58)
(2)کفار کی عادت: خیانت ،عہد توڑنا اور
رسولوں کے ساتھ بدعہدی کرنا کفار ومشرکین کی قدیم عادت ہے جیسے کہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ
ترجمہ کنزالعرفان : اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت
کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں ۔(پ10انفال 71)
(3) ذلت ورسوائی : جو کوئی خیانت کرے گا
وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا اور ذلت ورسوائی
اٹھائے گا جیسے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ
کنزالعرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس
نے خیانت کی ہوگی ۔(پ 4ال عمران 161)
(4)دیگر گناہوں کا سبب:خیانت
ایسا مذموم عمل ہے جو دیگر کئی گناہوں کے ارتکاب کا سبب ہے مثلاً جھوٹ، ظلم، دھوکہ
دہی وغیرہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنزالعرفان :بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔(پ 5
النساء107)
(5) خائن کا ساتھ نہ دینا : جس
طرح امانت میں خیانت کرنا حرام ہے اسی طرح ان کا ساتھ دینا بھی ناجائز و حرام ہے
چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتاہے : وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ
ترجمہ کنزالعرفان :اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔(پ5 النساء107)
پیارےاسلامی بھائیو! خیانت ہمارےمعاشرے کا وہ ناسُور ہے
جس کی گرفت سے شاید ہی کوئی شعبۂ زندگی بچا ہوا ہو مگر دینی معلومات کی کمی کی
وجہ سے ہمیں اس کا شعور نہیں ہوتا کاروبار ہو یا ملازمت !رازداری ہویا وراثت خیانت
اور دھوکے کا چلن عام ہے حالانکہ خیانت گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام
ہے اللہ پاک ہمیں امانت داری اپنانے اور خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور ہمارے ساتھ
اخلاقیات کو لازم فرمایا، اور ساتھ ہی منہیات سے دور رہنے کے لیے ہماری فطرت میں
ان چیزوں کو شامل کیا۔ اور ایک رسالتی سلسلے سے نبی آخر الزمان ﷺ کو قرآن عظیم
بطور معجزہ عطا فرمایا۔ جس کے نور نے جہالت کے اندھیروں کو دور کیا اور نورِ ایمان
سے مومن کو منور کیا۔ اسی کلامِ ربی میں، خالق کائنات نے ایک بری صفت کو بیان کرتے
ہوئے لوگوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین فرمائی، اور نبی آخر الزمان ﷺ نے اس بری
صفت سے اجتناب کرنے والے کو قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہونے کی خوشخبری سنائی۔وہ
بدترین صفت جو قرآن میں بیان ہوئی، اسے خیانت کہا گیا ہے۔تو آئیے قرآن عظیم پر ایک
عمیق نظر ڈالیں کہ قرآن نے کس چیز کو خیانت کہا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
خیانت کا مفہوم
اس آیت سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بندہ اللہ عزوجل کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کے
ارشادات میں خیانت نہ کرے، بلکہ انہیں ویسے ہی مانے اور عمل کرے جیسا کہ نازل ہوئے
یا زبانِ نبوی پر آئے، اور منہیات سے اپنی زندگی کو کوسوں دور رکھے۔تیسرا کلام، آیت
کریمہ سے اخذ شدہ، اخلاقی و سماجی معاملات میں خیانت کے بارے میں ہے، اور اس سے
متصف ذات کو نبی کریم ﷺ نے منافقت کا خطاب دیا:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:آیَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا
وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
ترجمہ:منافق کی علامتیں تین ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے،
جب وعدہ کرے خلاف کرے، اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔(صحيح البخاری، كتاب
الإيمان، حدیث: 33)
خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعی کے بغیر کسی
کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عمدۃ القاري، کتاب الإيمان، باب علامات
المنافق، تحت الباب: 24، ج1، ص328)
آپ کے پاس کوئی مال رکھوایا گیا اور آپ نے اس میں خیانت
کرتے ہوئے (بتائے بغیر) اسے استعمال کر لیا۔یا رکھوآئے ہوئے مال میں چوری کا حکم
لگا کر اسے ہڑپ کر لیا۔ایک اور صورت جسے خیانت کہا گیا وہ غیر کی عزت پے ہاتھ
ڈالنا ہے، جس کے الزام میں حضرت یوسف علیہ السلام نے قید کو ترجیح دی، اور اس عمل
قبیح سے خود کو بچاتے ہوئے خیانت سے دوری کا اعلان کیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے
آنکھوں کی خیانت کے بارے میں فرمایا:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(المؤمن: 19)
آنکھوں کی خیانت سے مراد:چوری چھپے ناحرام عورت کو دیکھنا
اور ممنوعات پر نظر ڈالنا۔سینوں میں چھپی چیز سے مراد:عورت کے حسن و جمال کے بارے
میں سوچنا۔ یہ سب چیزیں اگرچہ دوسروں کو معلوم نہ ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں جانتا
ہے۔(مدارک، غافر، تحت الآیۃ: 19، ص1055)
ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کو
اس بدترین صفت سے بچا کر اپنی ہدایت و نصرت عطا فرمائے۔ آمین
وقار
حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور، پاکستان)
خیانت کی تعریف:کسی کی امانت میں بغیر
اجازت تصرف(یعنی استعمال)کرنا خیانت ہے۔ خیانت ایک قبیح فعل ہے ۔ جو کہ کبیرہ گناہ
ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے ۔ قرآن و احادیث میں متعدد جگہ اسکی مزمت بیان کی گئی
ہے ۔ آئیں خیانت کی مذمت کو قرآن کی روشنی میں جانتے ہیں۔
(1) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنزُالعِرفان:اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف ،آیت
52)
اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو
بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار
کرنا چاہئے۔ اخلاقی خیانت کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’گھروں میں بیٹھے رہنے والوں پر
مجاہدین کی عورتوں کی حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے
والوں میں سے جو شخص مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس
کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت
کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ،
اب (اس مجاہد کے نیکیاں لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم، کتاب
الامارۃ، باب حرمۃ نساء المجاہدین واثم من خانہم فیہنّ، ص۱۰۵۱، الحدیث: ۱۳۹(۱۸۹۷))
(2) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ النساء، آیت 107)
اس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ
جھگڑو۔اورفرمایا خیانت کرنے والا اللہ پاک کا نا پسندیدہ شخص ہے اور بڑا گنہگار
ہےاسی طرح احادیث میں بھی خیانت کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔
(3) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(سورۃ المومن،آیت19)
آنکھوں کی خیانت
سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں
میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ
دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت
الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز
العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی
امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال،آیت 27)
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی
کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے
گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا
جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (ال عمران، آیت 161)
نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ
شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے
معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت
کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔اور اس آیت کا شان نزول بھی یہی ہے کہ ایک جنگ
میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے
اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت
الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
اس آیت میں خیانت کی واضح مذمت بیان فرمائی کہ جو کوئی
خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔اللہ پاک
ہمیں خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ
وسلم
احمد
رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،
پاکستان )
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے والے نیز یعنی اس سے
وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو
معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم
کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف
سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن
کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے فرامین پر غور کریں ۔
آئیے اس کے متعلق کچھ قرآنی آیات پڑھتے ہیں ۔
(1) خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)
تفسیر صراط الجنان: وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ:
اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا
کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
( تفسیر صراط الجنان فی تفسیرالقرآن، پارہ نمبر : 5 ،
سورۃ النساء ، آیت نمبر : 107 )
(2) فرائض و واجبات میں خیانت نہ کرنا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(انفال:27)
تفسیر صراط
الجنان :لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
( تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ نمبر : 9 ،
سورۃالانفال ، آیت نمبر : 27 )
( 3 ) خیانت کرنے والے کا مکر نہیں چلتا : ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم
ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے
والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)
(4) قیامت کے دن خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا
: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل
عمران:161)
تفسیر صراط الجنان : اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان
فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا
جائے گا۔ ( تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ نمبر : 4 ، سورۃال عمران ، آیت
نمبر : 161 )
(5) خیانت نہ اپنائی جائے : وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمۂ
کنز العرفان:اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے
پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور
اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط الجنان: اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ﷺ ، اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں۔اللہ پاک ہمیں خیانت کرنے سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ خاتم النبین صلی
اللہ علیہ وسلم
Dawateislami