وقار
حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور، پاکستان)
خیانت کی تعریف:کسی کی امانت میں بغیر
اجازت تصرف(یعنی استعمال)کرنا خیانت ہے۔ خیانت ایک قبیح فعل ہے ۔ جو کہ کبیرہ گناہ
ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے ۔ قرآن و احادیث میں متعدد جگہ اسکی مزمت بیان کی گئی
ہے ۔ آئیں خیانت کی مذمت کو قرآن کی روشنی میں جانتے ہیں۔
(1) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنزُالعِرفان:اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف ،آیت
52)
اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو
بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار
کرنا چاہئے۔ اخلاقی خیانت کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’گھروں میں بیٹھے رہنے والوں پر
مجاہدین کی عورتوں کی حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے
والوں میں سے جو شخص مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس
کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت
کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ،
اب (اس مجاہد کے نیکیاں لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم، کتاب
الامارۃ، باب حرمۃ نساء المجاہدین واثم من خانہم فیہنّ، ص۱۰۵۱، الحدیث: ۱۳۹(۱۸۹۷))
(2) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ النساء، آیت 107)
اس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ
جھگڑو۔اورفرمایا خیانت کرنے والا اللہ پاک کا نا پسندیدہ شخص ہے اور بڑا گنہگار
ہےاسی طرح احادیث میں بھی خیانت کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔
(3) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(سورۃ المومن،آیت19)
آنکھوں کی خیانت
سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں
میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ
دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت
الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز
العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی
امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال،آیت 27)
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی
کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے
گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا
جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (ال عمران، آیت 161)
نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ
شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے
معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت
کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔اور اس آیت کا شان نزول بھی یہی ہے کہ ایک جنگ
میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے
اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت
الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
اس آیت میں خیانت کی واضح مذمت بیان فرمائی کہ جو کوئی
خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔اللہ پاک
ہمیں خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ
وسلم
Dawateislami