الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور ہمارے ساتھ
اخلاقیات کو لازم فرمایا، اور ساتھ ہی منہیات سے دور رہنے کے لیے ہماری فطرت میں
ان چیزوں کو شامل کیا۔ اور ایک رسالتی سلسلے سے نبی آخر الزمان ﷺ کو قرآن عظیم
بطور معجزہ عطا فرمایا۔ جس کے نور نے جہالت کے اندھیروں کو دور کیا اور نورِ ایمان
سے مومن کو منور کیا۔ اسی کلامِ ربی میں، خالق کائنات نے ایک بری صفت کو بیان کرتے
ہوئے لوگوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین فرمائی، اور نبی آخر الزمان ﷺ نے اس بری
صفت سے اجتناب کرنے والے کو قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہونے کی خوشخبری سنائی۔وہ
بدترین صفت جو قرآن میں بیان ہوئی، اسے خیانت کہا گیا ہے۔تو آئیے قرآن عظیم پر ایک
عمیق نظر ڈالیں کہ قرآن نے کس چیز کو خیانت کہا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
خیانت کا مفہوم
اس آیت سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بندہ اللہ عزوجل کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کے
ارشادات میں خیانت نہ کرے، بلکہ انہیں ویسے ہی مانے اور عمل کرے جیسا کہ نازل ہوئے
یا زبانِ نبوی پر آئے، اور منہیات سے اپنی زندگی کو کوسوں دور رکھے۔تیسرا کلام، آیت
کریمہ سے اخذ شدہ، اخلاقی و سماجی معاملات میں خیانت کے بارے میں ہے، اور اس سے
متصف ذات کو نبی کریم ﷺ نے منافقت کا خطاب دیا:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:آیَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا
وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
ترجمہ:منافق کی علامتیں تین ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے،
جب وعدہ کرے خلاف کرے، اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔(صحيح البخاری، كتاب
الإيمان، حدیث: 33)
خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعی کے بغیر کسی
کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عمدۃ القاري، کتاب الإيمان، باب علامات
المنافق، تحت الباب: 24، ج1، ص328)
آپ کے پاس کوئی مال رکھوایا گیا اور آپ نے اس میں خیانت
کرتے ہوئے (بتائے بغیر) اسے استعمال کر لیا۔یا رکھوآئے ہوئے مال میں چوری کا حکم
لگا کر اسے ہڑپ کر لیا۔ایک اور صورت جسے خیانت کہا گیا وہ غیر کی عزت پے ہاتھ
ڈالنا ہے، جس کے الزام میں حضرت یوسف علیہ السلام نے قید کو ترجیح دی، اور اس عمل
قبیح سے خود کو بچاتے ہوئے خیانت سے دوری کا اعلان کیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے
آنکھوں کی خیانت کے بارے میں فرمایا:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(المؤمن: 19)
آنکھوں کی خیانت سے مراد:چوری چھپے ناحرام عورت کو دیکھنا
اور ممنوعات پر نظر ڈالنا۔سینوں میں چھپی چیز سے مراد:عورت کے حسن و جمال کے بارے
میں سوچنا۔ یہ سب چیزیں اگرچہ دوسروں کو معلوم نہ ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں جانتا
ہے۔(مدارک، غافر، تحت الآیۃ: 19، ص1055)
ہم اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کو
اس بدترین صفت سے بچا کر اپنی ہدایت و نصرت عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami