احمد
رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،
پاکستان )
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے والے نیز یعنی اس سے
وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو
معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم
کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف
سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن
کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے فرامین پر غور کریں ۔
آئیے اس کے متعلق کچھ قرآنی آیات پڑھتے ہیں ۔
(1) خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)
تفسیر صراط الجنان: وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ:
اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا
کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
( تفسیر صراط الجنان فی تفسیرالقرآن، پارہ نمبر : 5 ،
سورۃ النساء ، آیت نمبر : 107 )
(2) فرائض و واجبات میں خیانت نہ کرنا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(انفال:27)
تفسیر صراط
الجنان :لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
( تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ نمبر : 9 ،
سورۃالانفال ، آیت نمبر : 27 )
( 3 ) خیانت کرنے والے کا مکر نہیں چلتا : ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم
ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے
والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)
(4) قیامت کے دن خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا
: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل
عمران:161)
تفسیر صراط الجنان : اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان
فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا
جائے گا۔ ( تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ نمبر : 4 ، سورۃال عمران ، آیت
نمبر : 161 )
(5) خیانت نہ اپنائی جائے : وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمۂ
کنز العرفان:اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے
پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور
اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط الجنان: اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ﷺ ، اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں۔اللہ پاک ہمیں خیانت کرنے سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ خاتم النبین صلی
اللہ علیہ وسلم
Dawateislami