پیارے اسلامی بھائیو! فی زمانہ اسلامی تعلیمات
پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام
ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہیں میں سے ایک
خیانت بھی ہے ۔یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ وہ
گناہ جس کی وعید اور مذمت پر قراٰنِ پاک کی بہت ساری آیات اور احادیثِ کریمہ وارد
ہیں۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت بھی ہے یہ سب قراٰن پاک میں مختلف مقامات پر
بیان کیا گیا ہے اسی طرح امانت داری کا اطلاق سیاسی و انتظامی، دینی اور دنیاوی
امور میں بھی ہے، ہر چھوٹا بڑا عہدہ امانت ہے ،لہذا ہر شخص کا اپنے عہدہ و منصب کے
مطابق امانت داری کا خیال کرنا ضروری ہے ۔
خیانت
کسے کہتے ہیں؟ خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا
حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا
کسی بندہ کا۔(مرآۃ المناجیح جلد 4 صفحہ 62)
خیانت
کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی
معلومات،صفحہ176)
قران
کریم میں مختلف مقامات پر خیانت کی مذمت اور خیانت کرنے سے منع فرمایا گیا ہے
چنانچہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (پ9،انفال:27)
اللہ
پاک نے ارشاد فرمایا :
وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس
نے خیانت کی ہوگی ۔(پ 4 ، آل عمران :161)
اس آیت
میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت
والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا ۔
زیادہ
تر ہم خیانت مال کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس مال رکھتے ہیں وہ دوسرے
کو دے دیں تو ہم اس کو خیانت کرنے والا کہتے ہیں يقينًا یہ بھی خیانت ہے اور اس کے
علاوہ راز کی باتوں ، عزت ، مشورہ وغیرہ میں بھی خیانت ہوتی ہے ۔خیانت کی مختلف
صورتیں ہیں جو کہ حدیث پاک میں واضح طور پر بیان کی گئی ہیں :
(1)رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ
جس نے مال (غنیمت ) میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو ۔ (ابو داؤد، حدیث:
2713)
(2) حضور ﷺ نے فرمایا: کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے
کی خیانت کو چھپایا تو وہ گناہگار ہونے کے اعتبار سے وہ بھی خیانت کرنے والے کی
طرح ہے۔ (مشکاة المصابیح ص 3917)
(3) حضور ﷺ نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں جب بات
کرے جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت
کرے۔ (بخاری شریف، کتاب الایمان، مجلس برکات، ص 10)
یادرہے
کہ جس طرح روپیوں، پیسوں اور مال و سامان کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اسی طرح
باتوں، کاموں اور عہدوں کی امانتوں میں بھی خیانت حرام ہے۔بلکہ ہر قسم کی امانتوں
میں خیانت حرام ہے اور ہر خیانت جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ پاک قراٰنِ کریم
میں فرماتا ہے:
اِنَّ
اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجمہ
کنزُ الایمان: بے شک
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو ۔(پ 5
سورۃ النساء آیت 58)
لہذا ایک
کامل مؤمن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ خیانت پیدا کرنے والے اسباب پر غور کرے اور
اس کی درستگی کے لئے کوششیں کرتا رہے۔ جیسے بد نیّتی دھوکہ دہی بری صحبت نفسانی
خواہشات کی تکمیل وغیرہ اور ان سب سے بچنے کے لئے ان کُتُبِ اَحادیث کا مطالعہ کرے
جن میں ان تمام چیزوں سے متعلق مذمّتیں بیان ہوئی ہیں جیسے باطنی بیماریوں کے بارے
میں معلومات، 76 کبیرہ گناہ وغیرہ۔
الله
پاک سے دعا ہے کہ الله پاک ہم سب کو خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین
اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ
خاتَمِ النّبیّٖن ﷺ
Dawateislami