اسلام میں خیانت کو ایک سنگین گناہ اور منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ خیانت کا مطلب صرف مال میں ہیرا پھیری کرنا نہیں، بلکہ کسی کے بھروسے کو توڑنا، وعدہ خلافی کرنا اور اپنی ذمہ داریوں میں چوری کرنا بھی خیانت ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اہل ایمان کو صاف طور پر خیانت سے بچنے کا حکم دیا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃالانفال، آیت نمبر 27)

قیامت کا دن انصاف کا دن ہوگا اور وہاں خیانت کرنے والوں کو پوری مخلوق کے سامنے ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

خیانت کی چیز کا بوجھ:قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو شخص خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اس چیز کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے لائے گا۔ (سورہ آل عمران: 161)

ذرا سوچئے! جس نے کسی کی زمین، مال یا کوئی بھی چیز ناحق لی ہوگی، وہ میدانِ محشر میں سب کے سامنے اسے اٹھائے پھر رہا ہوگا جو اس کی رسوائی کا سبب بنے گا۔

منافق کی نشانی خیانت:نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔(صحیح بخاری: حدیث نمبر 33 (کتاب الایمان)صحیح مسلم: حدیث نمبر 59 (کتاب الایمان)

رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: "ہر خیانت کرنے والے (عہد توڑنے والے) کے لیے قیامت کے دن اس کی پیٹھ کے پاس ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا جس سے وہ پہچانا جائے گا، اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی خیانت (غداری) ہے۔(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1735 (کتاب الجہاد والسیر)صحیح بخاری: حدیث نمبر 6178 (کتاب الادب)

ایک اور مقام پر خیانت کی اتنی سخت مذمت آئی ہے کہ: "جس میں چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے(ان میں سے ایک یہ کہ) جب اسے امین بنایا جائے (امانت دی جائے) تو وہ خیانت کرے۔ اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو، نماز پڑھتا ہو اور گمان کرتا ہو کہ وہ مسلمان ہے۔صحیح مسلم: حدیث نمبر 58 ، کتاب الایمان)

یہ تمام حوالے مستند کتابوں سے لیے گئے ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایمان کی جڑیں کاٹ دینے والا گناہ ہے جس کی پکڑ قیامت کے دن بہت سخت ہوگی۔