اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جس میں نہ صرف فرد واحد بلکہ معاشرے میں رہن سہن کی تعلیمات موجود ہیں۔ اسلامی معاشرہ اخلاقی ستونوں پر قائم ہوتا ہے، ان میں امانت اور دیانت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جب یہ ستون متزلزل ہو جائیں تو بظاہر ترقی یافتہ معاشرہ بھی اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ خیانت اسی اخلاقی زوال کی ایک ایسی صورت ہے جو خاموشی سے اعتماد کو کھا جاتی ہے اور انسان کو اپنے ضمیر سے دور کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اس عمل کو محض سماجی کمزوری نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم قرار دیا ہے، جس کے اثرات فرد سے لے کر پورے معاشرے تک پھیل جاتے ہیں۔

خیانت کی تعریف:الْخِيَانَة: وَهُوَ التَّصَرُّف فِي الْأَمَانَة على خلاف الشَّرْعترجمہ: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عینی، بدر الدین العینی، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، دار إحياء التراث العربي، بيروت جلد1، ص220)

خیانت کی مذمت قرآن کریم کی روشنی میں:قرآن پاک میں اللہ پاک نے فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال8: 27)

تفسیر خازن میں اس آیت کے تحت درج ہے کہ:قال ابن عباس: معناه لا تخونوا الله بترك فرائضه ولا تخونوا الرسول بترك سنته ولا تخونوا أماناتكم"ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت کا معنی یہ ہے کہ فرائض چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے خیانت نہ کرو اور سنت کو ترک کر کے رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت نہ کرو اور نہ ہی اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(خازن، جلد2، ص306، دار الکتب العلمیہ )

اس تفسیر کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔

اسی سورت کی آیت نمبر 58 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال8: 58)

ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ خائن شخص اللہ پاک کی بارگاہ میں ہرگز پسندیدہ نہیں ہے خیانت اسے وقتی دنیوی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر آخرکار فائدہ خسارے میں بدل جاتا ہے۔ قرآن کی رہنمائی ہمیں بتاتی ہے کہ امانت داری ہی ایمان کی پہچان اور معاشرتی اعتماد کی بنیاد ہے۔ اگر ہم فرداً فرداً اپنی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ لیں تو بہت سی اصلاحات خود بخود ممکن ہو جاتی ہیں۔ ایک صالح معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب خیانت کی جگہ دیانت کو اختیار کیا جائے۔اللہ پاک میں خیانت کی نحوست سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ النبی الامین۔