خیانت ایک ایسا سنگین اخلاقی اور دینی جرم ہے جسے اسلام
نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ خیانت صرف مالی معاملات تک محدود نہیں بلکہ اس میں اللہ
تعالیٰ کے احکامات، رسول اللہ ﷺ کی سنت، لوگوں کے حقوق، وعدے، ذمہ داریاں اور
امانتیں سب شامل ہیں۔ خیانت اعتماد کو ختم کر دیتی ہے اور فرد و معاشرہ دونوں کو
تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔
خیانت کا مفہوم:خیانت کے لغوی معنی ہیں:
امانت میں بددیانتی کرنا، وعدہ خلافی کرنا اور حق کو ضائع کرنا۔
شرعی اصطلاح میں خیانت سے مراد ہر وہ عمل ہے جس میں
اللہ، رسول ﷺ یا بندوں کے حقوق میں دانستہ کمی یا کوتاہی کی جائے۔
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ
الانفال: آیت 27)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ اللہ
اور رسول ﷺ کے احکامات کی نافرمانی بھی خیانت ہے، اور لوگوں کی امانتوں میں بددیانتی
بھی بڑا گناہ ہے۔
(1)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے، اور ان میں سے ایک
ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے،جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔"(صحیح بخاری،
حدیث: 34 ؛ صحیح مسلم، حدیث: 58)
(2)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"امانت
کو ضائع کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔"(صحیح بخاری، حدیث: 59)
خیانت کے نقصانات:اللہ تعالیٰ کی ناراضی،ایمان
کی کمزوری،معاشرتی اعتماد کا خاتمہ،دنیا و آخرت میں رسوائی۔
خیانت اسلام میں سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔ قرآن و سنت کی
روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ خیانت اللہ، رسول ﷺ اور بندوں کے حقوق کو پامال کرنے کا
نام ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر امانت کو دیانت داری سے ادا کرے اور ہر قسم کی
خیانت سے بچے۔ اگر معاشرہ خیانت سے پاک ہو جائے تو امن، اعتماد اور عدل قائم ہو
سکتا ہے۔
Dawateislami