انسانی معاشرہ باہمی اعتماد، سچائی اور امانت پر قائم ہوتا ہے۔ جب ان بنیادوں میں خیانت شامل ہو جائے تو پورا نظام بکھر جاتا ہے۔ اسلام چونکہ ایک اجتماعی دین ہے، اس لیے اس نے معاشرتی زندگی کو بچانے کے لیے خیانت سے سختی سے منع کیا ہے۔ خیانت صرف فرد کا ذاتی گناہ نہیں بلکہ اجتماعی جرم ہے۔ ایک شخص کی خیانت سینکڑوں لوگوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ قرآنِ مجید نے خیانت کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی تک سے منع فرمایا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں امانت کو دین کی روح قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیانت کو نفاق کی علامت بتایا۔ اگر معاشرے میں خیانت عام ہو جائے تو عدل، امن اور ترقی سب ختم ہو جاتے ہیں۔

-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)ترجمہ کنز الایمان:اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو ۔ (سورۃ النساء: 105)

-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز الایمان:بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(سورۃ الأنفال: 58)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.

ترجمہ:یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے (بڑے ہونے پر) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے (میں نے حساب کیا تو) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا (جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہ دے کر آپ سے لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں (میں واپس نہ لوں گا) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو“۔(سنن ابی داود،كتاب الإجارة ،حدیث: 3534)

خیانت معاشرتی زہر ہے جو آہستہ آہستہ پورے نظام کو ختم کر دیتا ہے۔ جب امانت ختم ہو جائے تو انصاف باقی نہیں رہتا۔ انصاف نہ ہو تو امن ختم ہو جاتا ہے۔ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اسلام ہمیں ایک صاف راستہ دکھاتا ہے کہ ہم ہر حال میں امانت دار رہیں۔ خیانت وقتی فائدہ دے سکتی ہے مگر دائمی نقصان کا سبب بنتی ہے۔ قیامت کے دن ہر امانت کے بارے میں سوال ہوگا۔ جو قوم خیانت چھوڑ دیتی ہے وہ سربلند ہو جاتی ہے۔ ہمیں فرد سے لے کر ریاست تک امانت داری کو عام کرنا ہوگا۔ یہی اسلامی معاشرے کی پہچان ہے۔