خیانت کی تعریف :خیانت یہ ہے کہ آدمی اس امانت میں جان بوجھ کر خلافِ حق تصرف کرے جسے اللہ یا بندوں نے اس کے سپرد کیا ہو، چاہے وہ مال ہو، راز ہو، ذمہ داری ہو یا کوئی حق۔ہر وہ چیز جس کا حق ادا کرنا شرعاً لازم ہو اور آدمی اس میں کوتاہی یا بددیانتی کرے، وہ شرعاً خیانت ہے۔

الله و رسول سے خیانت نہ کرو:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔( پارہ 9 سورۃ انفال کی آیت نمبر 27 )

اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرنا کیا ہے؟فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ َ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

آنکھوں کی خیانت:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔( پارہ 24 سورۂ مومن آیت نمبر 19 )

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)

کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن نہیں اور قیامت میں خائن کا حال:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ( پارہ 4 سورۂ آل عمران آیت نمبر 161 )

نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)

خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

مذکورہ بالا تمام آیتوں میں خیانت کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے اور خیانت کرنے سے منع کیا گیا ہے آنکھوں کی خیانت اور اسکی مذمت کو بیان کیا گیا اور یہ بھی جان لیا گیا کہ نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ نبی ہر عیب سے پاک ہوتا ہے اور خیانت ایک عیب ہے ۔ان تمام آیتوں سے خیانت کی مذمت واضح ہوتی ہے۔

اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم ہر طرح کی خیانت سے بچیں اور انبیاء کرام علیہم السلام کی صفت امانت کو اختیار کریں ۔الله پاک ہمیں جان و مال اور عزت و راز اور ہر طرح کی خیانت سے بچائے اور امانت دار بنائے

آمین یا رب العالمین۔