آج جس پر فتن زمانہ میں ہم چل رہے ہیں اس زمانہ میں گناہ کرنا ایک عام معمول بن گیا ہے لوگوں کےلیے چاہے وہ گناہ کیسا بھی ہو اور لوگوں کو اپنے ایمان کے کمزور ہونے یا پھر ایمان کے ضائع ہونے کا بھی خوف نہیں رہا اور آج کے زمانے میں برائیاں اتنی ہو گئی ہیں کہ برائیوں کو کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا ان برائیوں میں سے ایک خیانت بھی ہے یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے،نبی پاک،صاحبِ لَولاک  ﷺ نے فرمایاکہ منافق کی تین علامتیں ہیں: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ یعنی جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی

جائے تو خیانت کرے۔(بخاری،ج1،ص24، حدیث:33)

یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں،مسلمان کوا س سے بچنا چاہئے۔(مراۃ المناجیح،ج،1،ص74)

خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے ۔ (باطنی بیماریوں کا معلومات: ۱۷۵)

خیانت کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ،9،سورةالانفال ۲۷)

خیانت کا حکم:ہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۶)

خیانت کے بارے میں کچھ اہم عنوانات :امانت وہ چیز ہےجس پر پوری دینا کا نظام منحصر ہے ۔

جیساکہ کفار حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے تھے لیکن وہ حضور ﷺ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے تھے ان کو اس بات کا یقین تھا کے حضور ﷺ امانتوں میں خیانت نہیں کرتے باجود اس کے وہ حضور ﷺ کو اپناجانی دشمن بھی مانتے تھے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کے انسان میں جھوٹ اور خیانت کے علاوہ تمام خصلتیں مسقل ہیں ۔(جہنم میں لے جانے والے اعمال صفحہ نمبر ۷۱۸ جلد نمبر ۲)

خیانت کے چھ اسباب : خیانت کا پہلا سبب بدنیتی ہے ، خیانت کا دوسر ا سبب دھوکہ دینےکی عادت ہے،خیانت کا تیسرا سبب تَوَکُّلْ عَلَی اللہ کی کمی ہے، خیانت کا چوتھا سبب نفسانی خواہشات کی تکمیل ہے ،خیانت کا پانچواں سبب مسلمانوں کو نقصان کادینے کی عادت ہے،خیانت کا چھٹا سبب بری صحبت ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ۱۷۷تا۱۷۹)

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)

خیانت کے بارے میں مذمت :سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)