محمد
ریان(درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان ابو
عطار ماڈل کالونی ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی ظاہری عبادات کے
ساتھ ساتھ اس کے باطنی اخلاق کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ اسلام نے جن اخلاقی برائیوں سے
سختی سے منع کیا ہے، ان میں خیانت سرفہرست ہے۔ خیانت دراصل امانت، دیانت اور سچائی
کی ضد ہے۔ ایک خیانت فرد کے کردار کو داغدار کر دیتی ہے اور پورے معاشرے کے اعتماد
کو متزلزل کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید نے خیانت کو اللہ اور رسول ﷺ سے بے وفائی قرار دیا
ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان والوں کو خصوصی طور پر خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ امانت داری نے مسلمانوں کو عروج دیا اور خیانت نے قوموں
کو زوال سے دوچار کیا۔ اس لیے خیانت کی مذمت قرآن و سنت میں نہایت سخت الفاظ میں بیان
کی گئی ہے۔
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ
الأنفال: 27)
(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز الایمان:بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔( سورۃ الأنفال: 58)
(3) -وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔( سورۃ آلِ عمران: 161)
حَدَّثَنَا
سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ،
قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ
أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
قَالَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ
أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.ترجمہ:ہم سے سلیمان ابوالربیع
نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے، ان سے نافع بن مالک بن ابی عامر ابوسہیل
نے، وہ اپنے باپ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، منافق کی
علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو
امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (صحيح البخاری،كتاب الإيمان،حدیث: 33)
وَعَنْ أَنَسٍ
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ
لَا عَهْدَ لَهُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ ۔ترجمہ:سیدنا
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی ہمیں
خطاب کرتے تو فرماتے: ”جس شخص میں امانت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں، اور جس شخص کا
عہد نہیں اس کا کوئی دین ہی نہیں۔اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا
ہے۔ (مشكوة المصابيح،كتاب الإيمان،حدیث: 35)
حَدَّثَنَا أَبُو
كَامِلٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي
الطَّوِيلَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ الْمَكِّيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ
لِفُلَانٍ نَفَقَةَ أَيْتَامٍ، كَانَ وَلِيَّهُمْ فَغَالَطُوهُ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ،
فَأَدَّاهَا إِلَيْهِمْ فَأَدْرَكْتُ لَهُمْ مِنْ مَالِهِمْ مِثْلَيْهَا، قَالَ:
قُلْتُ: أَقْبِضُ الْأَلْفَ الَّذِي ذَهَبُوا بِهِ مِنْكَ، قَالَ: لَا، حَدَّثَنِي
أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
يَقُولُ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.
ترجمہ:یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم
بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے (بڑے ہونے پر)
اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے (میں نے
حساب کیا تو) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا (جس نے مجھے حساب
لکھنے کے کام پر رکھا تھا) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ
دے کر آپ سے لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں (میں واپس نہ لوں گا) مجھ سے میرے والد نے بیان
کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو
تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت
کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔(سنن ابی داود،كتاب الإجارة ،حدیث: 3534)
خیانت کوئی معمولی گناہ نہیں بلکہ یہ ایمان کی جڑوں کو
کمزور کر دینے والا عمل ہے۔ جو شخص خیانت کرتا ہے وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتا
ہے مگر اللہ کی ناراضگی مول لے لیتا ہے۔ قرآن ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ خیانت
کرنے والا قیامت کے دن رسوائی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ایسے افراد پر نہ اللہ کی
مدد آتی ہے اور نہ لوگوں کا اعتماد باقی رہتا ہے۔ معاشرے کی تباہی کی بڑی وجہ خیانت
ہی ہے، خواہ وہ مالی ہو، قولی ہو یا عملی۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ امانت داری ہر
حال میں لازم ہے، حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی خیانت کی اجازت نہیں۔ اگر مسلمان واقعی
کامیابی چاہتے ہیں تو انہیں خیانت کو چھوڑ کر سچائی، دیانت اور امانت کو اپنانا
ہوگا۔ یہی دنیا کی عزت اور آخرت کی نجات کا واحد راستہ ہے۔
Dawateislami