محترم و مکرم قارئین! آج کل ہمارے معاشرے میں کئی گناہ عام ہیں۔ ان ہی میں سے ایک خیانت ہے۔ جس کی مذمت پر قرآن و حدیث میں کئی وعیدیں آئی ہیں۔ تا کہ لوگ خیانت سے بچے اور امانت دار بنیں۔ کیونکہ خیانت فرد کے کردار کو مجروح، معاشرتی اعتماد کو ختم اور عدل و انصاف کے نظام کو تباہ کر دیتی ہے۔تو آئیے پہلے خیانت کی تعریف اور حکم جان لیتے ہیں پھر خیانت کی قرآنی مذمت جانتے ہیں۔

خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ ( باطنی بیماریوں کی معلومات،ص:175 )

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (ایضاً،ص:176)

خیانت کی مذمت قرآن مجید کی روشنی میں (1) قیامت کے دن خائن کی پیشی :اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ  مَا  كَانَ  لِنَبِیٍّ  اَنْ  یَّغُلَّؕ-وَ  مَنْ  یَّغْلُلْ  یَاْتِ  بِمَا  غَلَّ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِۚ ثُمَّ  تُوَفّٰى  كُلُّ  نَفْسٍ  مَّا  كَسَبَتْ  وَ  هُمْ  لَا  یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)

اس آیت میں کتنی صراحت سے خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ کہ جو خائن ہے وہ قیامت کے دن خیانت والی چیز کے ساتھ آئے گا اور یہ کتنی بڑی وعید ہے۔

(2) خائن کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمۂ کنز العرفان:اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔(النساء،107:4)

اس آیت کریمہ کے تحت صراط الجنان میں ہے:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں۔( صراط الجنان،ج،2،ص:333 )

(3) خائن اللہ پاک کا ناپسندیدہ : وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال،58:8)

اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ خیانت کتنی قبیح چیز ہے کہ ایسے بندے سے اللہ پاک بھی محبت نہیں فرماتا اور ہر مومن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اللہ پاک مجھ سے راضی ہو جائے میں اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بن جاؤ ۔ تو اللہ پاک کا پسندیدہ بندہ بننے کے لئے خیانت جیسے قبیح گناہ کو ترک کرنا پڑے گا۔

(4)امانتوں میں خیانت نہ کرو :اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال،27:8)

اس آیت کریمہ کے تحت صراط الجنان میں۔فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ ( صراط الجنان، ج،3،ص:543 )

اور اس آیت میں بھی اللہ پاک نے اپنی امانتوں میں خیانت کرنے سے منع فرمایا۔ اس سے انداذہ لگایئے کہ خیانت کتنا بڑا اور نقصان دہ گناہ ہے جس سے اللہ پاک نے بار بار قرآن پاک میں صراحتاً منع فرمایا۔اور یہ آج کل لوگوں میں عام ہے ۔ اس کی پرواہ ہی نہیں اللہ پاک ایک مرتبہ جس کام سے منع فرما دے بندہ مومن کےلئے وہی کافی ہوتا ہے اور خیانت سے ایک نہیں متعدد بار منع فرمایاہم پھر بھی اس باز نہیں آ رہے۔ پھر اس کے اخروی نقصانات کے علاوہ جو دنیوی نقصان ہوتے ہیں وہ الگ ہیں کہ خائن کی کوئی عزت نہیں کرتا، خائن کا کردار،داغدار ہو جاتا ہےوغیرہ وغیرہ۔اللہ پاک سے دعا گو ہوں اللہ ہم سب کو خیانت سے محفوظ فرمائے ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور نیکیوں والی اور اپنی رضا والی طویل زندگی عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔