خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جھنم میں لے جانے والا کام۔

اللہ تعالی قرآن پاک میں خیانت کے متعلق فرماتا ہے:(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،الانفال:27)

دوسری جگہ فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کروبے شک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے بے شک اللہ سنتا دیکھتا ہے ۔(پ5،النساء:58)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کے تحت ہے :امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)۔

(2) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(12،یوسف:52)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کے تحت ہے: اخلاقی خیانت مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابل تعریف وصف ہے:اس سے یہ بھی معلوم ہوا اخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابل تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے ۔

آنکھ کی خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)

ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (مومن : ۱۹)

اخلاقی خیانت کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے روایت ہے، رسول کریم صلی الله تَعَالَى علیہ وَآلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا ”گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص مجاہدین میں سے کسی کے گھر والوں میں (اس کا ) نائب بنے ( اور اس کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہل خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ، اب ( اس مجاہد کے نیکیاں لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے ؟ (مسلم، كتاب الامارة، باب حرمۃ نساء المجاهدين واثم من خانهم فيهن ، ص ۱۰۵۱ ، الحدیث: ۱۳۹ (۱۸۹۷)۔

(4) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)

اللہ تعالی سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت کرنے سے بچائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔