پیارے اسلامی بھائیو! آج اس پُر فتن دور میں ہر جگہ گناہوں کا بازار گرم ہی دکھائی دیتا ہے۔ وہ گناہ جس کی وعید اور مذمت پر قراٰنِ پاک کی بہت ساری آیات اور احادیثِ کریمہ وارد ہیں۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت بھی ہے۔ خیانت کی تعریف اس کا حکم اور اس کی مذمت پر چند احادیث آپ بھی پڑھئے:

خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا!رب تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،الانفال:27)

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4 ، آل عمران : 161)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت سے پناہ مانگی :ہمارے صادق وامین آقا ،مکی مدنی مصطَفٰے ﷺ دعا کیا کرتے تھے : اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَة یعنی الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیرکارہے۔(ابوداؤد،ج2،ص130، حدیث:1547)

حضرت ثوبان رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : الْكِبْرِ، وَالدَّيْنِ، وَالْغُلُولِ یعنی جو شخص اس حال میں مَرا کہ وہ تین چیزوں سے بَری تھا: تکبر، خیانت اور دَین (قرض)،تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔(مسند احمد، مسندالانصار، حدیث :22434)

رسول الله ﷺ نے فرمایا: بری خیانت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو اور تو اس میں جھوٹا ہو۔(مرأةالمناجیح،ج6،حدیث: 4627،حسن پبلشرز)

فرمانِ آخری نبی ﷺ ہے : کوئی والی جو مسلمان رعیت کا والی بنے پھر ان پر خیانت کرتا ہوا مر جائے تو اللہ پاک اس پر جنت حرام فرما دے گا۔(مرأةالمناجیح،ج5،حدیث :3516)

حضور ﷺ نے فرمایا: کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپایا تو وہ گناہگار ہونے کے اعتبار سے وہ بھی خیانت کرنے والے کی طرح ہے۔ (مشکاة المصابیح ، حدیث: 3917)

خیانت ایک بہت ہی بری چیز ہے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو خیانت جیسی بری بلا سے محفوظ رکھے آمین یارب العالمین۔