یامین
حسین(درجہ ثالثہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
قرآن مجید میں امانت میں خیانت، عہد شکنی اور دھوکہ دہی
کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ذیل میں تین اہم آیات پیش کی جا رہی ہے:(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال،8:27)
اللہ اور رسول سے خیانت سے مراد حقوق اللہ اور حقوق الرسول
میں کمی کرنا ہے، جیسے اللہ کی نعمتوں کو نافرمانی میں صرف کرنا یا رسول اللہ ﷺ کے
احکام کی خلاف ورزی۔ امانتوں میں خیانت سے مراد آپس کی امانتیں (مال، راز، عہد وغیرہ)
ہیں۔ جان بوجھ کر خیانت منافقت کی علامت اور سخت گناہ ہے۔ خائن کو اللہ تعالیٰ
پسند نہیں فرماتا۔( خزائن العرفان، سورۃ الانفال، تحت آیت 27)
(2)اِنَّاۤ
اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ
اَرٰىكَ اللّٰهُؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵) ترجمہ
کنز الایمان: اے محبوب بے شک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ
کرو جس طرح تمہیں اللہ دکھائے اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔ (سورۃ النساء،4:105)
یہ آیت طعمہ بن ابیرق کے واقعہ میں نازل ہوئی جو چوری
کرکے الزام دوسروں پر لگاتا تھا۔ خائنوں کی حمایت اور وکالت حرام ہے، چاہے رشتہ
دار ہی کیوں نہ ہو۔ خائن کی طرفداری کرنا بھی خیانت میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔(
خزائن العرفان، سورۃ النساء، تحت آیت 105)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے
گا ۔(سورۃ آل عمران،3:161)
"یغل" سے مراد غنیمت میں خیانت (غلو) ہے۔ نبی
پاک ﷺ تو ہر قسم کی خیانت سے پاک ہیں، عام آدمی اگر خیانت کرے تو قیامت کے دن اس
کا بوجھ گلے میں لٹکایا جائے گا اور سخت عذاب ہوگا۔ یہ آیت خیانت کی سنگینی کو
واضح کرتی ہے کہ اس کا اثر قیامت تک رہے گا۔(خزائن العرفان، سورۃ آل عمران، تحت آیت
161)
خیانت کی مذمت احادیث مبارکہ سے:نبی کریم
ﷺ نے خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیا اور اس کی سخت مذمت فرمائی:ذیل میں پانچ
مستند احادیث:
(1) عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا
وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔ترجمہ: منافق کی تین
علامتیں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے توڑ دے، جب امانت دی جائے تو خیانت
کرے۔(صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب علامات المنافق، حدیث نمبر 33؛ صحیح مسلم،
کتاب الإیمان، حدیث نمبر 107)
(2) لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ،
وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ۔ترجمہ: جس میں امانت داری نہ ہو اس کا ایمان
نہیں، اور جس میں عہد کی پاسداری نہ ہو اس کا دین نہیں۔(حوالہ: مسند احمد، جلد 3،
ص 134، حدیث نمبر 12383؛ مستدرک حاکم، حدیث نمبر 222، صحیح)
(2) عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ
خَانَكَترجمہ: امانت اسے لوٹا دو جس نے تمہیں امانت دار ٹھہرایا،
اور جو تمہاری خیانت کرے تم اس کی خیانت نہ کرو۔(سنن ابو داود، کتاب البیوع، باب فی
أداء الامانۃ، حدیث نمبر 3535؛ سنن ترمذی، حدیث نمبر 1264، حسن)
إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ
فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ... إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ
فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ۔ترجمہ: جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو... جب امور
نااہل لوگوں کے سپرد کیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔( صحیح بخاری، کتاب الرقاق،
حدیث نمبر 6496)
عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: مَا خَطَبَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ
لَهُ۔ترجمہ:
نبی ﷺ جب بھی ہمیں خطبہ دیتے تو ضرور فرماتے: جس میں امانت داری نہ ہو اس کا ایمان
نہیں۔(حوالہ: مسند احمد، حدیث نمبر 12567؛ شعب الایمان للبیہقی)
Dawateislami