پیارے اسلامی بھائیو! آج اس پُر فتن دور میں ہر جگہ گناہوں کا بازار گرم ہی دکھائی دیتا ہے۔ وہ گناہ جس کی وعید اور مذمت پر قراٰنِ پاک کی بہت ساری آیات اور احادیثِ کریمہ وارد ہیں۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت بھی ہے۔ خیانت کی تعریف اس کا حکم اور اس کی مذمت پر چند احادیث آپ بھی پڑھئے:

خیانت کی تعریف: اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے ۔

خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ،1/652)

خیانت کا قرآنی بیان :اللہ پاک قراٰن پاک میں فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9، الانفال : 27)

خیانت ایک مذموم صفت ہے:اللہ پاک فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4 ، آل عمران : 161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں خیانت کرنا کبیرہ گنا ہوں میں سے ایک ہے۔ چنانچہ اللہ پاک نے کلام پاک میں ارشاد فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9، الانفال : 27)

اور احادیثِ کریمہ میں بھی متعدد مقامات پر اس کی مذمت وارد ہوئی ہے اُن میں سے چند احادیث پیش نظر کرتا ہوں۔

(1) رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے(اور) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(بخارى ، 1 /24، حدیث: 33 )

(2) حضور ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔ (مسلم، ص1184 ، حدیث:2865)

(3) حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہےکہ سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد ، 4 / 271، حدیث: 12386)

(4) حضرت ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا اور خیانت کرنے والا نہیں ہو سکتا ۔ (مسند امام احمد، 8 / 276، حدیث: 22232)

(5)حضرت فُضالہ بن عبید رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :تین شخص ایسے ہیں جن سے سوال نہیں ہوگا (اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا، ان میں سے ایک) وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس (کے شوہر) نے اس کی دنیوی ضروریات (جیسے نان نفقہ وغیرہ) پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب، 3 / 18، حدیث: 4)

ان تمام روایات سے سبق ملا کہ خیانت سے بچنا چاہیے کیونکہ ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ خیانت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ان شاء الله

الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خیانت اور تمام گنا ہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین