محمد
زین العابدین عطاری(سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان )
اللہ عزوجل نے مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لیے قرآنِ
پاک میں جا بجا احکام نازل فرمائے ہیں۔ ان احکام کا مقصد نہ صرف بندے کو اپنے رب
سے جوڑنا ہے بلکہ ایک پرامن اور صالح معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے۔ انہی احکام میں سے
ایک اہم حکم خیانت سے اجتناب کا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ
وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو تنبیہ
فرمائی ہے کہ وہ نہ تو اللہ تعالیٰ سے خیانت کریں، نہ رسولِ کریم ﷺ سے، اور نہ ہی
ایک دوسرے کی امانتوں میں خیانت کریں۔فرائضِ الٰہی کو ترک کرنا اللہ سے خیانت ہے،
اور سنتِ رسول ﷺ کو چھوڑ دینا رسول اللہ ﷺ سے خیانت کے مترادف ہے۔ (خازن، الانفال،
تحت الآیۃ: 27، 2/190)
خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ممانعت:اللہ
تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایا:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ
-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء: 107)
یہ آیت ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو خائن افراد کی
حمایت کرتے ہیں، ان کے لیے دلائل تراشتے ہیں، اور ان کے گناہوں کو چھپاتے ہیں۔
وکالت اور خیانت:وکالت کے پیشے سے وابستہ
افراد کو خاص طور پر اس آیت پر غور کرنا چاہیے۔ بعض اوقات وکیل جانتے ہیں کہ ان کا
مؤکل مجرم ہے، پھر بھی وہ جھوٹے دلائل سے اس کا دفاع کرتے ہیں، حق دار کا حق چھینتے
ہیں، اور عدالتی نظام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ سب خیانت کے زمرے میں آتا ہے اور اللہ
تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔قرآنِ مجید میں خیانت کے انجام کو یوں بیان کیا گیا
ہے:
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی
چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر
ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ آل عمران: 161)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کرنے والا قیامت کے
دن ذلیل و رسوا ہوگا اور اس کی خیانت اس
کے ساتھ ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے قبیح عمل سے محفوظ فرمائے،
امانت داری، دیانت، اور صداقت کی دولت سے مالا مال کرے، اور ہمیں ان لوگوں میں
شامل فرمائے جو قیامت کے دن سرخرو ہوں۔
Dawateislami