اسلام ایک ایسا دین ہے جو بندے کو اس کی مصلحت کے تحت رہنمائی دیتاہے وہ دنیوی مصلحت ہو یا اخروی بندے کی اخروی مصلحت میں سے ایک مصلحت امانت و فرائض و سنت میں خیانت سے بچنا ہے جس کے بارے میں قرآن و احادیث میں وعید آئی ہے کہ یہ بہت بڑا گناہ و خالص منافق کی نشانی اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔

اسی طرح احادیث میں خیانت کرنے والوں کے بارے میں ذکر آیا ہے چنانچہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار باتیں جس شخص میں پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا اور ان میں سے ایک بات پائی گئی تواس شخص میں نفاق کی ایک بات پائی گئی یہاں تک کہ اس سے توبہ کرلے،جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔(صحیح بخاری جلد ،1،ص25)

امانت کی ادائیگی :امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دینا ہے البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( پ 9، انفال، آیت 27)

فرائض چھوڑ دینا اللہ پاک سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کرنا ہے ۔(صراط الجنان جلد 3ص،543)

اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)

واضح رہے کہ جس طرح روپیوں ، پیسوں اور مال و سامان کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اسی طرح باتوں ، کاموں اور عہدوں کی امانتوں میں بھی خیانت حرام ہے ۔مثلاًکسی نے آپ سے اپنے راز کی بات کہہ دی اور آپ سے یہ کہہ دیا کہ یہ بات امانت ہے کسی سے مت کہیے گا اور وہ بات آپ نے کسی سے کہہ دی تو یہ امانت میں خیانت ہو گی ۔اس طرح کسی نے آپ کو مزدور رکھ کر کوئی کام سپرد کر دیا مگر آپ نے قصداً اس کام کو بگاڑ دیا یا کم کام کیا تو آپ نے امانت میں خیانت کی یاد رکھو کہ ہر قسم کی امانتوں میں خیانت حرام ہے اور ہر خیانت جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ہر مسلمان کو ہر قسم کی خیانتوں سے بچنا ایمان کی سلامتی اور جہنم سے نجات پانے کیلئے انتہائی ضروری ہے اور مزید فرمایا سامان اور سودا لیتے وقت ناپ تول میں کمی کرنا یک قسم کی چوری اور خیانت ہے جو حرام اور سخت گناہ جس کی سزا جہنم کا عذاب ہے ۔(جہنم کے خطرات)