خیانت ایک عظیم گناہ اور اخلاقی برائی ہے جو انسان کو اللہ کی ناراضی اور عذاب کا مستحق بناتی ہے۔ اسلام میں امانت داری کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے جبکہ خیانت کو نفاق کی علامت اور شدید مذمت کا باعث ٹھہرایا گیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں خیانت کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال: ۲۷)

یہ آیت خیانت کی شدید ممانعت کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ خیانت اللہ اور رسول کے ساتھ دغا بازی ہے۔

(2)وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال: ۵۸)

یہاں اللہ تعالیٰ خائنوں سے محبت نہ کرنے کا اعلان فرماتے ہیں۔

(3)اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء:107)

اس آیت میں خیانت کی مذمت ہے اللہ خائنوں کو پسند نہیں فرماتا۔

(4) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (غافر: ۱۹)

یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت چاہے کتنی پوشیدہ ہو، اللہ سے مخفی نہیں۔

اسلام میں امانت داری ایمان کی علامت ہے اور خیانت نفاق کی۔ مسلمان کو چاہیے کہ ہر حال میں امانت دار رہے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں خیانت سے بچنا لازم ہے کیونکہ یہ اللہ کی ناراضی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔اللہ ہمیں امانت دار بنائے اور خیانت سے محفوظ رکھے۔ آمین