حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت احمد عطاریہ،جامعہ غوثیہ طاہریہ مٹیاری
وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ
الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗ (پ
15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام
اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔یہ آیت مبارکہ ان مفلس و نادار صحابہ کرام
کے شان میں نازل ہوئی جو دنیاوی اعتبار سے مال و منال اور اہل و عیال نہ رکھتے تھے
ورنہ حقیقت میں تو انہیں دونوں جہانوں کے سردار ﷺ کا قرب اور رفاقت میسر تھی جس سے
بڑھ کر اور کوئی دولت نہیں ہو سکتی۔ اس آیت میں اللہ نے حکم فرمایا کہ اے حبیب ﷺ اگرچہ
اہل دنیا اور مالدار طبقے کے لوگ انہیں اپنی مجالس سے دھتکارتے ہیں لیکن آپ اپنی
جان کو ان لوگوں سے مانوس رکھیں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا
چاہتے ہوئے۔
لہذا حضور
علیہ الصلوۃ والسلام جو کہ غریبوں اور
مسکینوں کے حامی و یاور تھے اللہ پاک کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے ان صحابہ کرام
سے بہت مودت و محبت فرماتے تھے نیز ان حضرات پر آپ کی خصوصی نظر عنایت رہتی تھی
چنانچہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے وقت چونکہ مہاجرین صحابہ اپنے اہل
و عیال اور بھائی بندوں کو چھوڑ کر بے سر و سامان تارک الوطن ہو گئے تھے لہذا حضور
علیہ الصلوۃ والسلام نے مسجد جامع کی تعمیر کے بعد مہاجرین و انصار کے درمیان رشتہ
اخوت و تعلق برادری قائم کیا تاکہ مہاجرین غربت کی وحشت اور بال بچوں کی جدائی اور
مفارقت محسوس نہ کریں نیز وہ ایک دوسرے کے
ممد و معاون بن جائیں اور سبحان اللہ ہوا بھی ایسا ہی کہ صرف حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کا عقد مواخات فرمانا تھا اور وہ حضرات درحقیقت بھائی بھائی بن گئے۔ (سیرت
رسول عربی، ص 79)
یہ مفتقرین
صحابہ اپنی تنگ حالی کے باوجود کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے تھے لیکن غیب دان
نبی تو اپنے غلاموں کے مطالب و حاجات کو بے کہے ہی نہ صرف جان لیا کرتے تھے بلکہ
ان کی حاجت روائی بھی فرما دیا کرتے تھے چنانچہ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ
کی قسم بھوک کی زیادتی کی وجہ سے میرا پیٹ زمین سے لگ جایا کرتا تھا اور بھوک کی
شدت کی وجہ سے میرا یہ حال ہوتا تھا کہ میں نے اپنے پیٹ کو پتھر سے لپیٹا ہوا ہوتا
تھا چنانچہ اسی کیفیت میں ایک دن میں گزرگاہ عام پر بیٹھ گیا جہاں سے صحابہ کرام
کی آمد و رفت رہتی تھی پس جب سب سے پہلے وہاں سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا گزر
ہوا تو میں نے ان سے قرآن پاک کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا اور میری ان سے
سوال پوچھنے کی غرض فقط یہ تھی کہ وہ میری حالت سے آشنا ہو کر مجھے کھانا کھلا کر
سیر کر دیں لیکن وہ میری کیفیت کو نہ سمجھ سکے اور تشریف لے گئے پھر فاروق کے اعظم
رضی اللہ عنہ اس راستے سے گزرے میں نے ان سے اسی منشا و خواہش کے تحت کتاب اللہ کی
ایک آیت کے متعلق سوال کیا لیکن میں اس بار بھی فائز المرام نہ ہو پایا کہ فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ بھی بغیر میری حاجت روائی کیے گزر گئے۔
پھر میرے
سامنے رحمت عالمیان ﷺ رونق افروز ہوئے آپ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرے چہرے پر
بھوک کی وجہ سے جو آثار نمایاں تھے اسے بھانپ گئے چنانچہ لب ہائے قدس کو جنبش دے کر فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے عرض کی
لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا ساتھ آؤ چنانچہ میں آپ کے فرمان کی تابعداری کرتے ہوئے
آپ کے پیچھے ہو لیا یہاں تک کہ آپ کے ساتھ کاشانہ اقدس میں داخل ہو گیا حضور علیہ
الصلوۃ والسلام نے وہاں ایک دودھ کا پیالہ پایا جو ان کی طرف کسی نے تحفتًا بھیجا تھا چنانچہ مجھ سے فرمایا اے ابو
ہریرہ تم جاؤ اور اصحاب صفہ کو بلا آؤ اس پر آپ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھ پر
ناگوار گزری فرط حیرت سے میں سوچنے لگا کہ ایک پیالہ دودھ ہے میں بھوک کی شدت سے بے حال و نڈھال ہوں اور آپ یہ مجھے
پلانے کی بجائے فرما رہے ہیں کہ اصحاب صفہ
کو بلا لاؤ اگر وہ سب آگئے تو مجھے امید نہیں کہ مجھے اس دودھ کا کچھ حصہ بھی مل
سکے گا لیکن اللہ اور رسول ﷺ کی اتباع و اطاعت کے سوا کیا چارہ تھا۔
بہرحال میں ان
لوگوں کو بلا کر لے آیا جب وہ سب اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو سرکار ابد قرار
نے مجھ سے فرمایا اے ابو ہریرہ پیالہ پکڑو
اور باری باری سب کو پلاتے جاؤ میں پیالہ ہر ایک کو دیتا گیا یہاں تک کہ سب نے جی
بھر کر دودھ پی لیا تو میں نے پیالہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا آپ نے مسکراتے
ہوئے میری طرف دیکھا اور فرمایا اب صرف ہم دونوں ہی باقی رہ گئے ہیں میں نے عرض کی
حضور آپ نے سچ فرمایا تو فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو پس میں نے پینا شروع کیا جب میں
پیالہ رکھنا چاہتا تو آپ مجھ سے فرماتے اور پیو پس میں پیتا رہا پس آپ مسلسل یہی
فرماتے رہے یہاں تک کہ جب میں پوری طرح شکم سیر ہو گیا تو عرض کی حضور اللہ کی قسم
اب بالکل گنجائش نہیں تب آپ ﷺ نے پیالہ لے کر باقی ماندہ کو دودھ بسم اللہ پڑھ کر
خود نوش فرما لیا۔ (بخاری،4/223، حدیث:6452)
سبحان اللہ
قربان جائیں پیارے آقا ﷺ کی شان کریمی پر کہ کس ادائے دل نوازی سے اپنے پیارے
صحابی کی درپردہ کیفیت و حاجت کو جان کر ان کو بہر مند فرما دیا پیاری بہنوں معلوم
ہوا کہ یقیناً غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ دل جوئی کرنا اور ان کی حاجت روائی کرنا
کریم آقا ﷺ کی سنت ہے لہذا اس سنت کو ادا کرتے جائیں اور اپنے لئے سرمایہ آخرت
حاصل کرتے جائیں اور اس کے لیے جتنی بھی عاجزی کرنی پڑے اس میں اپنی کسر شان سمجھیں، چنانچہ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک سیاہ
فام عورت جو مسجد نبوی میں جھاڑ پونچھ کا کام کرتی تھی ایک بار حضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے اسے غائب پا کر اس کے بارے میں استفسار فرمایا چنانچہ اس کی فوتگی کے
بارے میں اطلاع دی گئی اس پر رحمت عالم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھے اس کے فوت
ہونے کی خبر پہلے کیوں نہ دی، چنانچہ جب اس کی قبر کے بارے میں رہنمائی کی گئی تو
آپ نے ازراہ رحمت و شفقت اس پر نماز جنازہ پڑھی اور ان کی گور تاریک کو بقعہ نور
سے تبدیل کر دیا۔ سبحان اللہ
ذرا غور کریں
کہ مطلع ہونے کے بعد آقا علیہ الصلوۃ والسلام وہیں سے بھی ان صحابیہ کے لیے دعائے
مغفرت فرما سکتے تھے لیکن آپ کمال تواضع و
انکساری کرتے ہوئے بذات خود ان کی قبر پر تشریف لے گئے۔
اللہ سے دعا
ہے کہ اللہ پاک ہمیں پیارے حبیب ﷺ کی اس سنت کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت عظیم،جامعۃ المدینہ مغل پورہ لاہور
ہمارے پیارے آقا
ﷺ نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت امرا کی بنسبت غریب اور نادار لوگ زیادہ
اسلام کے قریب ہوئے اور انکو زیادہ حضور علیہ السلام کا قرب نصیب ہوا جب حضور علیہ
الصلاۃ والسلام نے ہجرت کا حکم ارشاد فرمایا تو تمام صحابہ کرام اپنا مال چھوڑ کر
آپکے فرمان عالی پر عمل کر کے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آ گئے۔
مہاجرین فقرا آقائے
دو جہاں ﷺ کی بارگاہ میں شکایت کی کہ ان پر اغنیا مسلمانوں کو فضیلت حاصل ہے پس
حضور خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا کہ اے فقرا کے گروہ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤ
کہ فقرا مومنین اغنیا سے پانچ سو سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔
سبحان اللہ دیکھا
آپ لوگوں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فقرا کو کس قدر بڑی خوشخبری سنائی یہ
آپکی ان سے محبت ہے اور اللہ بھی اس بات کو محبوب رکھتا ہے۔
سرور عالم ﷺ کی
غریبوں سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:
حضرت ابو سعید
خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: تم مساکین سے محبت رکھو پس بے شک میں
نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: اے اللہ مجھے مسکین زندہ
رکھ، اور مجھے مسکینی کی حالت میں اس دنیا فانی سے اٹھانا،اور میرا حشر مسکینوں کے
ساتھ کرنا۔ (ترمذی، 4/157، حديث:2359)
کیا کسی سے
محبت کے لیے اتنا کافی نہیں کہ دنیا اور آخرت دونوں میں اسکی بھلائی چاہی جائے اور
اسکے ساتھ رہا جائے آپکی مجالس اکثر غریب صحابہ کرام سے بھری ہوتی تھیں، غریب
صحابہ کرام تو اللہ کو بھی محبوب ہیں کی انکی شان میں قرآن کی آیت نازل فرمائی: وَ لَا تَطْرُدِ
الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗؕ- (پ
7، الانعام: 52)ترجمہ: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام
اس کی رضا چاہتے۔
اقرع بن حابس
تیمی اور عیینہ بن حصن الفزاری حضور کے پاس آئے تو آپ کے پاس حضرت صہیب، بلال،
عمار، خباب، کو پایا جو مومنوں میں سے غریب تھے مالی اعتبار سے پس جب ان دونوں نے
انکو حضور کے پاس دیکھا تو انہیں حقیر جانا وہ تنہا پیارے آقا ﷺ کے پاس آئے اور ان
سے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ان سے الگ مجلس رکھیں لوگ ہمیں عرب کے فضلا
سے جانتے ہیں جب آپکے پاس عرب کا کوئی قاصد آئے اور ہمیں ان غلاموں کے ساتھ دیکھیں
تو ہمیں اس بات سے حیا آتی ہے، جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ ان سے دور ہو جائیں اور
جب ہم چلے جائیں تو آپ ان کے ساتھ بیٹھ جائیں اگر چاہیں فرمایا: ہاں، تو وہ مسجد
کے ایک کنارے پر بیٹھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت مبارکہ لیکر آئے۔
اس میں اقرع
بن حابس اور عیینہ بن حصن کا ذکر تھا پھر اسی سورت سورہ انعام کی آیت 53 اور 54
بھی نازل ہوئی اسکے بعد وہ دونوں ان سے قریب ہوئے یہاں تک کہ انکے گھٹنے آپس میں
ملے اور وہ تمام حضرات حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی مجلس میں ساتھ تھے۔
اللہ اکبر کیا
کہنے حضور خاتم النبیین ﷺ کے کہ آپ صرف امیروں ہی نہیں بلکہ غریبوں کی مجلس کو بھی
اختیار فرماتے بلکہ انکی مجالس کو زیادہ محبوب رکھتے اور امیروں کی وجہ سے غریب
صحابہ کرام کو دور نہ بھگاتے نہ انکی دل آزاری کرتے۔
اللہ ان کا
صدقہ ہمیں بھی خلد میں آقا علیہ الصلاۃ والسلام کا پڑوس نصیب کرے۔آمین
اصحاب صفہ
مسجد نبوی کے چبوترے پر رہنے والے 70 غریب صحابہ تھے حضور علیہ الصلاۃ والسلام خود
ان کے پاس تشریف لے جاتے، ان کا حال پوچھتے، اور کبھی کبھی اپنے دست مبارک سے
کھانا کھلاتے۔
اللہ اللہ
حضور علیہ السلام کی عاجزی! کہ دونوں جہانوں کے مالک ہونے کے باوجود بھی غربا سے
محبت کا اظہار۔
حضرت بلال رضی
اللہ عنہ حبشی غلام تھے۔ امیر نہ تھے نہ ظاہری حسن مگر حضور ﷺ نے فرمایا بلال! جنت
میں میں نے تمہارے جوتوں کی آواز سنی۔ یہی غریبوں سے محبت ہے۔
مسجدنبوی شریف
میں ایک چبوترا تھا، جہاں (مختلف اوقات میں) تقریباً 400 یا 500 فقرائے مہاجرین
بیٹھا کرتے تھے، ا نہیں اصحاب صفّہ کہتے ہیں۔
ان کے پاس گھر تھا نہ دنیوی سازو سامان اور نہ ہی کوئی کاروبار،غربت کاعالم
یہ تھا کہ ان میں سے70 کے پاس ستر پو شی کے لیے پورا کپڑا بھی نہ تھا۔ان کی تعداد
میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔مدینۂ منورہ میں آنے والے کا شہر میں کوئی جان پہچان
والا نہ ہوتا تو وہ بھی اہل صفّہ میں شامل ہو جایا کرتا۔ (تفسیر نعیمی،3/137)
نبی کریم ﷺ نے
انہیں ہدایت کے ستارے قرار دیا۔
حضرت ابو
ہریرہ فرماتے ہیں بھوک کی شدت کی وجہ سے ایک دن اس راستے پر بیٹھ گئے جس سے لوگ
باہر جاتے تھے جانے دو عالم ﷺ میرے پاس سے گزرے تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرا
چہرہ دیکھ کر میری حالت سمجھ گئے فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے اس کی لبیک یا رسول
اللہ فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ میں پیچھے پیچھے چل دیا جب حضور علیہ السلام اپنے
مبارک گھر پر جلوہ گر ہوئے تو اجازت لے کر میں بھی اندر داخل ہو گیا سرور کائنات ﷺ
نے ایک پیالے میں دودھ دیکھا تو فرمایا یہ دودھ کہاں سے آیا ہے اہل خانہ نے عرض کی
فلاں صحابی یا صحابیہ نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے فرمایا ابو ہریرہ میں نے عرض کی
لبیک یا رسول اللہ فرمایا جا کر اہل صفہ کو بلا لاؤ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں اہل
صفہ اسلام کے مہمان ہیں نہ ان کو گھر بار سے رغبت ہے نہ مال و دولت سے اور نہ وہ
کسی شخص کا سہارا لیتے ہیں۔
جب محبوب رب
ذوالجلال کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ وہ مال ان اصحاب صفہ کی طرف بھیج دیتے تھے اور
خود اس میں سے کچھ نہیں لیتے تھے اور جب آپ ﷺ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو آپ ﷺ ان کے
پاس بھیجتے اس میں سے خود بھی استعمال کرتے اور ان کو بھی شریک فرماتے مجھے یہ بات
گراں گزری اور دل میں خیال آیا اہلِ صفہ کا اس دودھ سے کیا بنے گا میں اس کا زیادہ
مستحق تھا کہ اس دودھ سے چند گھونٹ پیتا اور کچھ قوت حاصل کرتا جب اصحاب صفہ آ جائیں گے تو سرکار نامدار ﷺ مجھے
ہی ارشاد فرمائیں گے کہ ان کو دودھ پیش کرو اس صورت میں بہت مشکل ہے کہ دودھ کے
چند گھونٹ مجھے میسر ہوں لیکن اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی طاعت کے بغیر چارہ نہ
تھا میں اصحاب صفہ کے پاس گیا اور ان کو بلایا وہ آئے انہوں نے شہنشاہ عرب ﷺ سے
اجازت طلب کی آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی اور وہ گھر میں حاضر ہو کر بیٹھ گئے۔
پیارے آقا ﷺ
نے فرمایا: ابو ہریرہ میں نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا پیالہ پکڑو اور ان
کو دودھ پلاؤ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ پکڑا میں وہ پیالہ ایک شخص کو
دیتا وہ سیر ہو کر پیتا اور پھر وہ پیالہ مجھے لوٹا دیتا حتی کہ میں بلاتا پلاتا
پیارے آقا ﷺ تک پہنچا اور تمام لوگ سیر ہو چکے تھے سرکار نامدار ﷺ نے پیالہ لے کر
اپنے دست اقدس پر رکھا پھر میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا ابو ہریرہ میں
نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں عرض کی یا
رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے سچ فرمایا فرمایا بیٹھو اور پیو میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے
لگا آپ ﷺ نے فرمایا پیو میں نے پیا آپ مسلسل فرماتے رہے پیو حتی کہ میں نے عرض کی
نہیں قسم مگر اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور مزید گنجائش
نہیں فرمایا فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے پیالہ پیش کر دیا آپ ﷺ نے اللہ پاک کی حمد
بیان کی بسم اللہ پڑھی اور باقی دودھ نوش فرما لیا۔ (بخاری،4/223، حدیث:6452)
حضرت ابو
سعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم ضعیف اور نادار لوگ بیٹھے ہوئے
تھے کہ حضور ہمارے پاس تشریف لائے،اس وقت ایک شخص قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا
اور ہمارے لئے دعا کر رہا تھا۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا:سب تعریفیں الله کے لئے جس نے میری امّت میں ایسے نیک سیرت بندے
پیدا کئے، جن کے ساتھ مجھے رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔پھر ارشاد فرمایا:فقرا مسلمین
کو قیامت کے روز کامل نور کی بشارت ہو کہ وہ غنی لوگوں سے آدھا دن پہلے جنت میں
داخل ہوں گے یعنی پانچ سو (500) سال کی مقدار پہلے داخل ہوں گے یہ فقرا جنت میں
نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور غنی لوگوں کا محاسبہ کیا جا رہا ہو گا۔ (در
منثور،5/382)
حضرت ابوذر
غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ
جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو میرا اونٹ بہت لاغر اور ضعیف تھا۔ میرا خیال
تھا کہ چند روز مزید ٹھہرکر حضور ﷺ سے جا ملوں گا۔ میں نے کئی روز تک اپنے اونٹ
کو چارا کھلایا بعدازاں میں عازم سفر ہوا۔ جب ایک جگہ پہنچا تو میرے اونٹ
کی ٹانگ ٹوٹ گئی جس کے باعث وہ آگے نہ چل سکا میں نے اپنا مال و متاع اپنی پشت پر رکھا اور چل
دیا۔ راستے میں سخت گرمی سے دوچار ہونا
پڑا۔ لشکر اسلام کے پاس پہنچا تو لوگوں نے
حضور ﷺ سے عرض کیا کوئی شخص پیدل چلا آرہا ہے۔ سرکار ﷺ نے فرمایا: ابو ذر غفاری
ہوں گے۔ جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے قیام کی حالت میں فرمایا: خوش رہو ابو ذر! رضی اللہ عنہ تم تنہا
سفر کرتے ہو تنہا ہی اس دنیا سے جاؤ گے اور تنہا ہی بروز حشر اٹھوگے۔ (شواہد النبوۃ، رکن رابع، ص 125)
حضرت عمار بن
یاسر رضی اللہ عنہ کو پہلے چوب اور کوڑوں کی مار سے کفار نے نڈھال کردیا۔ پھر آگ کے دہکتے ہوئے کوئلو ں پر پیٹھ کے بل لٹا دیا۔ مگر یہ استقامت کا پہاڑ
بن کر اسلام پر ثابت قدم رہے۔ اس حالت میں حضورﷺ ان کے قریب سے گزرے تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے یا رسول اللہ ﷺ کہہ
کر پکارا، عمار کی یہ مصیبت دیکھ کر رحمت عالم ﷺ کا دل صدموں سے چور چور ہوگیا اور فرمایا: یا نار کونی
بردًا وّ سلٰمًا علٰی عمّارٍ کما کنت علٰی ابراھیم یعنی اے آگ!
تو عمار پر اس طرح ٹھنڈک او رسلامتی بن جا جس طرح تو حضرت ابراہیم علیہ السّلام پر
ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی تھی۔ (طبقات کبری لابن سعد، 3/188) رحمت
عالم ﷺ حضرت عمار کے زخموں پر اپنا دست
شفقت پھیرتے ہوئے فرماتے کہ عمار طیب و مطیب یعنی عمار پاکیزہ اور خوشبودار ہے۔ (صحابہ کرام کا عشق رسول، ص 120)
حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت محمد شاہد،فیض مدینہ نارتھ کراچی
آیت مبارکہ ہے:
وَ لَا تَطْرُدِ
الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗؕ- (پ
7، الانعام: 52)ترجمہ: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام
اس کی رضا چاہتے۔
اس آیت کا شان
نزول یہ ہے کہ کفار کی ایک جماعت حضور علیہ السلام کی خدمت میں آئی انہوں نے دیکھا
کہ تاجدار رسالت ﷺ کے ارد گرد غریب صحابہ رضی اللہ عنہ کی ایک جماعت حاضر ہے جو
ادنیٰ درجے کے لباس پہنے ہوئے ہیں یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس
بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں
اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں حضور علیہ السلام نے اس بات کو منظور نہ فرمایا اس
پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ ان مخلص و غریب صحابہ کرام کو اپنی بارگاہ
سے دور نہ کرو جو صبح شام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں ان غریب صحابہ کا
رزق آپ علیہ السلام پر نہیں کہ غربت کی وجہ سے انہیں دور کر دیا جائے اور نہ آپ کی
ذمہ داری ان پر ہے سب کا حساب اللہ پر ہے وہی تمام خلق کو روزی دینے والا ہے اور
اس کے سوا کسی کا ذمہ حساب کا نہیں۔
حضور علیہ
الصلاۃ والسلام غریب اور فقرا صحابہ سے محبت فرماتے تھے، ابن ماجہ شریف کی حدیث ہے:
حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا کہ مسکینوں سے محبت کرو بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو
اپنی دعا میں فرماتے ہوئے سنا اللّٰهمّ أحيني مسكينًا، وأمتني مسكينًا،
واحشرني في زمرة المساكين ترجمہ: اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت
میں زندہ رکھ مسکین کی حالت میں وفات عطا فرما اور میرا حشر مساکین کے گروہ میں
فرما۔ (ترمذی، 4/157، حديث:2359)
حضرت ابو
ہریرہ فرماتے ہیں بھوک کی شدت کی وجہ سے ایک دن اس راستے پر بیٹھ گئے جس سے لوگ
باہر جاتے تھے جانے دو عالم ﷺ میرے پاس سے گزرے تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرا
چہرہ دیکھ کر میری حالت سمجھ گئے فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے اس کی لبیک یا رسول
اللہ فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ میں پیچھے پیچھے چل دیا جب حضور علیہ السلام اپنے
مبارک گھر پر جلوہ گر ہوئے تو اجازت لے کر میں بھی اندر داخل ہو گیا سرور کائنات ﷺ
نے ایک پیالے میں دودھ دیکھا تو فرمایا یہ دودھ کہاں سے آیا ہے اہل خانہ نے عرض کی
فلاں صحابی یا صحابیہ نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے فرمایا ابو ہریرہ میں نے عرض کی
لبیک یا رسول اللہ فرمایا جا کر اہل صفہ کو بلا لاؤ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں اہل
صفہ اسلام کے مہمان ہیں نہ ان کو گھر بار سے رغبت ہے نہ مال و دولت سے اور نہ وہ
کسی شخص کا سہارا لیتے ہیں۔
جب محبوب رب
ذوالجلال کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ وہ مال ان اصحاب صفہ کی طرف بھیج دیتے تھے اور
خود اس میں سے کچھ نہیں لیتے تھے اور جب آپ ﷺ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو آپ ﷺ ان کے
پاس بھیجتے اس میں سے خود بھی استعمال کرتے اور ان کو بھی شریک فرماتے مجھے یہ بات
گراں گزری اور دل میں خیال آیا اہلِ صفہ کا اس دودھ سے کیا بنے گا میں اس کا زیادہ
مستحق تھا کہ اس دودھ سے چند گھونٹ پیتا اور کچھ قوت حاصل کرتا جب اصحاب صفہ آ جائیں گے تو سرکار نامدار ﷺ مجھے
ہی ارشاد فرمائیں گے کہ ان کو دودھ پیش کرو اس صورت میں بہت مشکل ہے کہ دودھ کے
چند گھونٹ مجھے میسر ہوں لیکن اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی طاعت کے بغیر چارہ نہ
تھا میں اصحاب صفہ کے پاس گیا اور ان کو بلایا وہ آئے انہوں نے شہنشاہ عرب ﷺ سے
اجازت طلب کی آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی اور وہ گھر میں حاضر ہو کر بیٹھ گئے۔
پیارے آقا ﷺ نے
فرمایا: ابو ہریرہ میں نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا پیالہ پکڑو اور ان کو
دودھ پلاؤ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ پکڑا میں وہ پیالہ ایک شخص کو
دیتا وہ سیر ہو کر پیتا اور پھر وہ پیالہ مجھے لوٹا دیتا حتی کہ میں بلاتا پلاتا
پیارے آقا ﷺ تک پہنچا اور تمام لوگ سیر ہو چکے تھے سرکار نامدار ﷺ نے پیالہ لے کر
اپنے دست اقدس پر رکھا پھر میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا ابو ہریرہ میں
نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں عرض کی یا
رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے سچ فرمایا فرمایا بیٹھو اور پیو میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے
لگا آپ ﷺ نے فرمایا پیو میں نے پیا آپ مسلسل فرماتے رہے پیو حتی کہ میں نے عرض کی
نہیں قسم مگر اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور مزید گنجائش
نہیں فرمایا فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے پیالہ پیش کر دیا آپ ﷺ نے اللہ پاک کی حمد
بیان کی بسم اللہ پڑھی اور باقی دودھ نوش فرما لیا۔ (بخاری،4/223، حدیث:6452)
حضور ﷺ اصحاب
صفہ اور دیگر غریب اور نادار صحابہ کرام سے محبت فرماتے اس بارے میں بخاری شریف
اور دیگرصحاح ستہ میں واضح احادیث مبارکہ موجود ہیں آپ اکثر اصحاب صفہ اور مساکین
کے ساتھ زمین پر بیٹھتے انکے دکھ درد میں شریک ہوتے اور خود کو ان سے الگ نہ
سمجھتے تھے۔
غریب اور
نادار صحابہ کرام سے حضور ﷺ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے
انکو اپنا مقرب بنایا ہوا تھا انکے ساتھ بیٹھنا پسند فرمایا اور امت کو انکی وجہ
سے رزق ونصرت ملنے کی نوید سنائی۔
امام بخاری نے
بخاری شریف میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت نقل کی ہے کہ جب انہوں نے خود کو
مال و دولت یا شجاعت کی بناء پر کچھ سمجھا
تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: تمہیں تمہارے کمزوروں کی وجہ سے رزق اور مدد دی جاتی
ہے۔ (ابوداود، 3/39، حدیث: 2594)
ان روایات سے
معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان حضرات سے کتنی محبت فرماتے لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ تمام
صحابہ کرام سے محبت کریں۔
اللہ کریم
ہمیں ان حضرات سے حقیقی محبت نصیب فرمائے اور انکا صدقہ ہمیں عطا فرمائے۔ آمین
حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت ریاست محمود،پینسرہ فیصل آباد
حضور نبی کریم
ﷺ کی غریب، مسکین، اور نادار صحابہ کرام خصوصا اصحاب صفہ سے محبت اور شفقت بے مثال
تھی۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کی دل جوئی فرماتے اور ان کو اپنے پر ترجیح دیتے
تھے۔
اللہ تبارک و
تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ
وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ 15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور
اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
تفسیر نعیمی
میں اس آیت کریمہ کے تحت ہے: (اللہ پاک یہ فرما رہا ہے کہ) اے حبیب مکرم ﷺ! آپ اپنے
آپ کو تمام عمر، ہر محفل، ہر مجلس، ہر گھڑی، دن رات، صبح شام، انہی لوگوں کے ساتھ
رہیے رکھیے جو مخلص(sincere) ہیں، جو مسکین ہیں، جو فقیر ہیں، جو غریب
ہیں، جو سیدھے سادے ہیں، جو نہایت خلوص سے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں، الغرض! ہر
وقت ہی، ہر سانس میں ہر کروٹ میں ذکر الہی کرتے ہیں۔ ساری دنیا سے منہ موڑ کر بس
اپنے مولا کی ذات کا ہی ارادہ رکھتے ہیں۔ (اور اے حبیب مکرم!) ان کفار سے دور ہی
رہیے جو مختلف وفد بن کر آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کو اپنے ایمان لانے کے لیے طرح
طرح کی شرطیں لگاتے ہیں کہ ہم اور ہمارا
قبیلہ آپ پر ایمان تب لائیں گے جب آپ اپنے پاس سے ان غریب اصحاب صفہ کو ہٹا دیں گے
ہمیں ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے اور ہماری سرداری پر فرق آتا ہے بس یہی
ایک رکاوٹ ہے جو ہم آپ کی نبوت و رسالت، صداقت، امانت اور دیانت پر ابھی ایمان تک
نا لا سکے۔ (اس پر اللہ پاک ارشاد فرما رہا ہے) اے محبوب! ان مکاروں کی باتوں میں
نہ آنا، اور اپنی رحمت و عافیت والی نگاہوں کو ان پاکیزہ باطن والوں سے مت ہٹانا
کیونکہ آپ کی یہ معرفت والی نظریں ہی تو ان حضرات کی کل کائنات ہیں، آپ کی جدائی
ان کے لیے تکلیف کا باعث ہے،اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور نبی کریم ﷺ کو
فرمایا گیا کہ اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو
پکارتے ہیں، اور اس کی رضا چاہتے ہیں یعنی جو اخلاص کے ساتھ ہر وقت اللہ پاک کی
فرمانبرداری میں مشغول رہتے ہیں (تفسیر نعیمی، 15/576 بتغیر)
غریب
صحابہ کرام سے محبت کے واقعات:
1) حضرت فضالہ
بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حبیب کبریا ﷺ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو کچھ
صحابہ کرام نماز کے اندر حالت قیام میں بھوک کی شدت کے سبب گر پڑتے اور یہ اصحاب
صفہ تھے، حتی کہ کچھ لوگ کہنے لگتے یہ دیوانے ہیں، جب سرکار مدینہ ﷺ نماز سے فارغ
ہوتے تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے اے اصحاب صفہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ
تمہارے لیے اللہ کے ہاں کیا اجر و ثواب ہے تو تم اس بات کو پسند کرو کہ تمہارے
فاقے اور حاجت مندی میں مزید اضافہ ہو۔ (بخاری، 4/162، حدیث: 2375)
2) حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو اصحاب صفہ میں
سے تھے یہ فرماتے ہیں میں نے بھوک کے سبب اپنی یہ حالت بھی دیکھی کہ مدینے کے
تاجور، محبوب رب اکبر ﷺ کے منبر منور اور ام المومنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا کے حجرہ مطہرہ کے درمیان بے ہوش ہو کر گر پڑتا کوئی آدمی آتا اور میری
گردن پر پاؤں رکھ دیتا، وہ سمجھتا کہ مجھ پر جنون کی کیفیت طاری ہے، حالانکہ مجھے
جنون وغیرہ کچھ نہ ہوتا یہ حالت بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی۔ (بخاری، 4/515، حدیث: 7324)
حضور ﷺ کی
اپنے خاندان پر ترجیح
جب بھی نبی
کریم ﷺ کے پاس بحرین یا دیگر علاقوں سے مال غنیمت یا فتوحات کا مال آتا تو آپ ﷺ سب
سے پہلے اصحاب صفہ کی خبر گیری فرماتے۔ ایک بار سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر
کے کاموں کی مشقت کا ذکر کر کے آپ ﷺ سے ایک خادم مانگا تو آپ ﷺ نے صاف انکار فرما
دیا: میں تمہیں خادم کیسے دے دوں جبکہ صحابہ صفہ کے پیٹ بھوک کی وجہ سے مڑے جا رہے
ہیں؟ (مسند امام احمد، 1/106)
مالک
کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں
دو
جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
ان واقعات سے
حضور ﷺ کی اپنے غریب و نادار صحابہ کرام سے بے پناہ محبت کا ثبوت ملتا ہے۔
حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت رفیق،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
جن نے جان
جاناں ﷺ کو حالت ایمان میں دیکھا یا آپ ﷺ کی صحبت پائی اور اسلام ہی پر وفات پائی،
وہ صحابی ہے۔
اللہ پاک نے
اپنے محبوب ﷺ کو ایسی عظیم صفات سے نوازا کہ آپ ﷺ ہر طبقے کے لوگوں سے محبت
فرماتے، خصوصاً غریب، مسکین اور نادار مسلمانوں کے ساتھ آپ کی شفقت و محبت بے مثال
تھی۔ آپ ﷺ کے نزدیک کسی انسان کی عزت کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ
اور اخلاص تھا۔
قرآن کریم میں
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ
رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ
15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام
اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
کفار کے
سرداروں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں غریب اور شکستہ حال لوگوں کے ساتھ
بیٹھنے میں شرم آتی ہے، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے جدا کردیں تو ہم اسلام لے آئیں
گے۔ مگر رحمت عالم ﷺ نے غریب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنی مجلس سے جدا کرنا
پسند نہ فرمایا۔
اس واقعے سے
معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں غربت کوئی عیب نہیں۔ غریب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم
اگرچہ دنیاوی اعتبار سے کمزور اور نادار تھے، مگر اللہ پاک کے نزدیک ان کا مقام
بہت بلند تھا۔ وہ صبح و شام اللہ پاک کو یاد کرتے اور اس کی رضا کے طلبگار رہتے
تھے۔ اسی لیے حضور اکرم ﷺ ان سے محبت فرماتے اور انہیں اپنی صحبت سے نوازتے تھے۔
ایک اور موقع
پر قبیلۂ مضر کے فقروفاقہ والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی حالت دیکھ کر حضور
اکرم ﷺ بہت غمگین ہوئے اور صحابۂ کرام کو ان کی مدد کرنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے
کی ترغیب دی۔ جب صحابۂ کرام نے ان کی مدد کی تو حضور اکرم ﷺ بہت خوش ہوئے۔
لہٰذا ہمیں
بھی چاہیے کہ غریبوں اور نادار مسلمانوں کو حقیر نہ سمجھیں، ان کے ساتھ محبت و
شفقت سے پیش آئیں، ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں اور ان کی عزت نفس کا
خیال رکھیں۔
یاد رکھیں! مال
و دولت انسان کو اللہ پاک کا محبوب نہیں بناتی بلکہ ایمان، تقوی، اخلاص اور نیکی
انسان کا مقام بلند کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے
غریب و نادار مسلمانوں سے محبت کرنے اور ان کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
نبی کریم ﷺ کی
کئی صفات ہیں،آپ کی ایک صفت محبت بھی ہے جو ایک عظیم صفت ہے۔آقا ﷺ بچوں اور تمام
صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت فرماتے۔حضرت علامہ مولانا سید مفتی محمد نعیم
الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان کو چاہیے کہ صحابہ کرام کا
نہایت ادب رکھے،دل میں ان کی عقیدت و محبت کو جگہ دے،ان کی محبت حضور ﷺ کی محبت ہے
اور جو بد نصیب صحابہ کرام کی شان میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولے وہ دشمن خدا و
رسول ﷺ ہیں۔ مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھیں۔ (سوانح کربلا، ص 31)
اعلیٰ حضرت
امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اہل
سنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور نجم
ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
حضرت محمد ﷺ
تمام انسانوں سے بے حد محبت کرتے تھے، لیکن غریب اور نادار صحابہ سے آپ ﷺ کی خاص
شفقت تھی۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کی خیریت دریافت کرتے، ان کی مدد فرماتے اور
انہیں کبھی حقیر نہیں سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں
کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔آپ ﷺ نے مسلمانوں کو غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد
کرنے کی تلقین فرمائی۔ آپ ﷺ خود بھی سادہ زندگی گزارتے تھے اور جو کچھ ملتا، ضرورت
مندوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اسی لیے غریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ سے بے
حد محبت کرتے تھے۔مدینہ منورہ میں بہت سے غریب صحابہ مسجد نبوی کے چبوترے پر رہتے
تھے، جنہیں اصحاب صفہ کہا جاتا تھا۔ حضور ﷺ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ آپ ﷺ ان کے
پاس تشریف لے جاتے، ان کی تعلیم و تربیت فرماتے، ان کے ساتھ کھانا کھاتے اور جب
کہیں سے کھانا یا تحفہ آتا تو پہلے ان کا خیال رکھتے تھے۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ
رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ
15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام
اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
اس آیت کا
شان نزول یہ ہے کہ سرداران کفار کی ایک جماعت نے سرکار دوعالم ﷺ سے عرض کیا کہ
ہمیں غربا اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے۔ اگر آپ انہیں اپنی صحبت سے جدا کردیں تو ہم اسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لانے سے خلق کثیر اسلام لے
آئے گی۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (روح البیان، 5/238)
اور نبی کریم ﷺ
کو فرمایا گیا کہ اپنی جان کو ان لوگوں کے
ساتھ مانوس رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں یعنی جو اخلاص کے ساتھ ہر وقت اللہ کی طاعت
میں مشغول رہتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی تربیت خود ربّ العالمین فرماتا ہے جیسے
یہاں ہوا کہ ایک معاملہ در پیش ہوا تو اللہ
نے اپنے حبیب ﷺ کی خود تربیت فرمائی اور آپ کی کمال کی طرف رہنمائی فرمائی۔
یہ بھی معلوم
ہوا کہ اچھوں کے ساتھ رہنا اچھا ہے اگرچہ
وہ فقرا ہوں اور بروں کے ساتھ رہنا برا ہے
اگرچہ وہ مالدار ہوں۔
حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت آصف اقبال عطاری، شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اللہ تعالیٰ
نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سراپا رحمت بنا کر دنیا میں بھیجا۔ آپ ﷺ
کی مبارک زندگی محبت، شفقت، عفو و درگزر اور حسن اخلاق کا حسین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ
تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بے حد محبت فرماتے تھے، لیکن غریب، نادار اور
کمزور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر آپ ﷺ کی خصوصی شفقت ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کبھی کسی کی
عزت و مرتبے کا معیار مال و دولت کو نہیں بناتے تھے بلکہ تقویٰ، اخلاص اور اللہ
تعالیٰ کی اطاعت کو اصل فضیلت قرار دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم بھی آپ ﷺ کی بارگاہ میں بے حد عزت و محبت پاتے تھے اور آپ ﷺ انہیں اپنے
خاندان کے افراد کی طرح عزیز رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ
الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ 15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور
اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
حضور اکرم ﷺ
کی محبت کا انداز یہ تھا کہ آپ ﷺ غریب صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھنے میں کبھی عار
محسوس نہ فرماتے۔ ان کی خیریت دریافت کرتے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے، ان کے
ساتھ نہایت محبت سے گفتگو فرماتے اور ان کے دلوں کو خوش کرنے کی کوشش فرماتے۔
اصحاب صفہ جو انتہائی غریب تھے، حضور ﷺ ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔ جب کبھی کھانا
آتا تو پہلے انہیں یاد فرماتے، اگر کچھ ہدیہ آتا تو ان میں تقسیم فرما دیتے اور
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی ان کی خدمت کی ترغیب دیتے تھے۔
ایک نہایت
ایمان افروز واقعہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ پہلے غلام
تھے اور دنیاوی اعتبار سے غریب تھے، لیکن حضور ﷺ کے نزدیک ان کا مقام بہت بلند
تھا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! میں نے
جنت میں اپنے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سنی۔ یہ سن کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی
خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت و
مرتبہ مال و دولت سے نہیں بلکہ ایمان، اخلاص اور نیک اعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ (بخاری،
1/393، حدیث: 1149)
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی فقر و تنگ دستی میں زندگی گزارتے تھے، مگر حضور ﷺ ان سے
بڑی محبت فرماتے، ان کی تعلیم و تربیت فرماتے اور ان کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے۔
اسی محبت کی برکت سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ امت کے سب سے زیادہ احادیث روایت
کرنے والے صحابی بنے۔
حضور نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: تمہیں رزق اور مدد تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ملتی ہے۔ (ابوداود،
3/39، حدیث: 2594)
آج ہمیں بھی
چاہیے کہ اپنے پیارے آقا ﷺ کی اس مبارک سنت کو اپنائیں، غریبوں اور ناداروں سے
محبت کریں، ان کی مدد کریں، ان کی دلجوئی کریں اور انہیں کبھی حقیر نہ سمجھیں۔ یہی
حقیقی عشق رسول ﷺ اور سنت نبوی پر عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از ہمشیرہ محمد ہارون، شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
حضور نبی کریم
ﷺ تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کا ایک
نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ ﷺ غریب، نادار، مسکین اور کمزور لوگوں سے خصوصی محبت
فرماتے، ان کی دل جوئی کرتے اور ان کے حقوق کی حفاظت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ ﷺ کی
بارگاہ میں انسان کی قدر و منزلت مال و دولت سے نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ اور اخلاص
سے تھی۔
رسول اللہ ﷺ
نے غریب مسلمانوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: کیا تمہیں تمہارے کمزور لوگوں
ہی کی وجہ سے مدد نہیں دی جاتی اور رزق نہیں دیا جاتا؟ (ابوداود، 3/39، حدیث:
2594)
اس حدیث سے
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحمت حاصل ہونے کے اسباب میں کمزور اور
محتاج لوگوں کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک بھی شامل ہے۔
اصحاب صفہ میں
بہت سے ایسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جو انتہائی سادہ زندگی گزارتے اور مالی
طور پر محتاج تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان کی خبر گیری فرماتے اور صحابہ کرام کو بھی ان کے
ساتھ تعاون کی ترغیب دیتے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اصحاب
صفہ اسلام کے مہمان تھے اور جب رسول اللہ ﷺ کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ اسے ان کے لیے
بھیج دیتے، جبکہ ہدیہ آتا تو آپ ﷺ اس میں سے خود بھی تناول فرماتے اور ان کے لیے
بھی بھیجتے۔
حضور اکرم ﷺ
کی محبت کا انداز یہ تھا کہ آپ ﷺ غریب صحابہ کو کمتر نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے
ایمان اور اخلاص کی قدر فرماتے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ایک آزاد کردہ غلام
تھے، مگر رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ان کا مقام بہت بلند تھا۔ اسی طرح حضرت سلمان فارسی
رضی اللہ عنہ اور حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی ظاہری مال و
دولت کے اعتبار سے امیر نہ تھے، لیکن ایمان و تقویٰ کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے
محبوب اور معزز ساتھی تھے۔
آپ ﷺ یتیموں،
بیواؤں اور مسکینوں کی کفالت کی بھی بہت ترغیب دیتے تھے۔ فرمایا: بیوہ اور مسکین
کی خبر گیری کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔ (بخاری، 3/511،
حدیث: 5353)
اسی طرح یتیم
کی کفالت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت
میں اس طرح ہوں گے اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔
(بخاری، 4/102،
حدیث: 6005)
رسول اللہ ﷺ
کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے میں غریب اور نادار افراد کو حقیر نہیں
سمجھنا چاہیے۔ ان کی عزت نفس کا خیال رکھنا، ضرورت کے وقت ان کی مدد کرنا، ان کے
ساتھ محبت سے پیش آنا اور انہیں معاشرے کا باعزت فرد سمجھنا اسلامی تعلیمات کا حصہ
ہے۔
حضور نبی کریم
ﷺ غریب و نادار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے
عمل سے ان کی دل جوئی کی اور اپنے ارشادات کے ذریعے امت کو بھی ان کی مدد اور عزت
کرنے کا حکم دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سیرت مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے غریبوں،
مسکینوں، یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ محبت، احترام اور ہمدردی کا معاملہ کریں۔
حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت جاوید آصف، تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
حضور نبی کریم
ﷺ کی غریب، نادار اور کمزور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اور شفقت
اسلامی تعلیمات کا ایک روشن ترین پہلو ہے، آپ ﷺ کی ان صحابہ سے محبت کی چند نمایاں
جھلکیاں درج ذیل ہیں:
اصحاب
صفہ کی نگہداشت: مسجد
نبوی کے چبوترے پر رہنے والے غریب اور بے سہارا صحابہ، جنہیں اصحاب صفہ کہا جاتا
ہے، ان کا خصوصی خیال رکھا جاتا تھا۔ حضور ﷺ خود ان کے پاس تشریف لاتے، ان کے ساتھ
بیٹھتے اور ان کی ضروریات پوری فرماتے۔
صحابہ
سے دلی انسیت: آپ ﷺ
نے ہمیشہ غریبوں کو گلے لگایا۔ حضرت سلمان فارسی، حضرت بلال حبشی اور حضرت صہیب
رومی جیسے غلامی سے آزاد ہونے والے اور نادار صحابہ کو آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کی
طرح مقام اور عزت بخشی۔
مالداروں
کو نصیحت: آپ ﷺ
نے معاشرے میں غریبوں کو کمتر سمجھنے والوں کی سختی سے سرزنش کی۔
آقا کریم حضرت
محمد ﷺ کی غریب صحابہ سے محبت اور ان کی دلجوئی کا ایک نہایت خوبصورت اور ایمان
افروز واقعہ ملاحظہ فرمائیں: چنانچہ حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے ایک
نہایت غریب، نادار اور ظاہری طور پر کمخوار صحابی تھے، جن کا معاشرے میں کوئی بڑا
نام یا خاندان نہ تھا۔ ان کی غریب الوطنی اور سادگی کی وجہ سے کوئی ان سے اپنی
بیٹی کا نکاح کرنے کو تیار نہیں تھا، لیکن پیارے آقا ﷺ کو ان کی اتنی فکر تھی کہ
آپ ﷺ خود ان کے لیے رشتہ تلاش فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے خود ایک انصاری صحابی کے گھر
تشریف لے جا کر ان کی بیٹی کا رشتہ حضرت جلیبیب کے لیے مانگا۔
لڑکی کے
والدین پہلے ہچکچائے، مگر اس خوش نصیب لڑکی نے کہا: کیا تم رسول اللہ ﷺ کی تجویز
کو رد کرتے ہو؟ مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔ شادی کے کچھ ہی دن بعد ایک غزوہ پیش آیا،
جس میں حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ جنگ
کے بعد جب حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا تمہارا کوئی بندہ گم ہے؟ تو لوگوں نے
اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام لیے۔
آپ ﷺ نے
فرمایا: لیکن میں جلیبیب کو گم پا رہا ہوں، انہیں تلاش کرو۔ جب ان کی لاش ملی تو
انہوں نے اپنے اردگرد کئی کافروں کو مارا ہوا تھا۔ پیارے آقا ﷺ ان کی لاش کے پاس
تشریف لائے، انہیں اپنی مبارک گود (آغوش) میں لیا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کی
قبر کھودنے تک انہیں تھامے رکھا۔ آپ ﷺ نے محبت سے تین بار فرمایا: یہ مجھ سے ہے
اور میں اس سے ہوں۔
ایک
دیہاتی صحابی سے انداز محبت: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے: حضور نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی صحابی حضرت زاہر رضی اللہ عنہ جب بھی آتے
تو ہدیہ لے کر آتے اور حضور نبی کریم ﷺ بھی واپسی پر ان کو کچھ نہ کچھ عنایت ضرور
کرتے تھے۔ حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے
شہری ہیں،نیز آپ انہیں بے حد عزیز رکھتے تھے۔
حضرت زاہر رضی
اللہ عنہ بظاہر خوبصورت نہ تھے،لیکن ایک دن وہ بازار میں اپنا کچھ سامان فروخت کر
رہے تھے کہ حضور ﷺ نے پیچھے سے جا کرانھیں گود میں اٹھا لیا،وہ آپ کو نہ دیکھ سکے
اور کہنے لگے:کون ہے؟مجھے چھوڑو!پھر جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو آپ کے
سینۂ مبارک سے چمٹ گئے۔
حضور نبی کریم
ﷺ نے اعلان کرنا شروع کیا کہ کون ہے جو اس غلام کوخریدے گا؟ حضرت زاہر رضی اللہ
عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!آپ کو میرے بدلے کچھ نہیں ملے گا!حضور اکرم ﷺ نے
مسکرا کر فرمایا:اللہ پاک کے نزدیک تیری بڑی قیمت ہے۔
ان تمام
احادیث سے پتا چلا کہ حضور ﷺ اپنے غریب و نادار صحابہ سے کس قدر محبت و شفقت
فرمایا کرتے تھے۔
اللہ پاک ہم
سب کو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے۔
کیوں
نہ ہو رتبہ بڑا اصحاب و اہل بیت کا
ہے
خدائے مصطفےٰ، اصحاب و اہل بیت کا
اللہ تعالیٰ
نے رسول اکرم ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر
پہلو انسانیت کے لیے نمونۂ کامل ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی انسان کی عزت و وقار کا
معیار مال و دولت، حسب و نسب یا ظاہری شان و شوکت کو نہیں بنایا، بلکہ تقویٰ، اخلاص
اور کردار کو اصل معیار قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ غریب، کمزور اور محروم صحابۂ کرام
آپ ﷺ کے دل کے نہایت قریب تھے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف ان سے محبت فرمائی بلکہ ان کی عزت،
دل جوئی اور ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا۔
مشرکین و کفار
نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ غربا و مسکین لوگوں کو چھوڑ دیں ہم اسلام لے آئیں گے
کیونکہ انکی وجہ سے ہماری شان میں فرق آتا ہے اس کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا
گیا: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ
مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗ (پ
15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام
اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں،پھر جو
لوگ ان کے قریب ہیں۔ (بخاری، 2/194،حدیث: 2652)
صحابۂ کرام
وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کے صدقے بعد میں آنے والےمسلمانوں تک دین اسلام کی تعلیمات
پہنچی،ان کی شان وعظمت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ ربّ کریم
نےاپنےپاکیزہ کلام میں ان کو رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کےلقب سے یاد
فرمایا اور اللہ کے آخری نبی ﷺ نے انہیں ہدایت کے ستارے قرار دیا۔ (مشکاة المصابیح،
2/ 414، حدیث: 6018)
یہی وہ مبارک
ہستیاں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، یہ وہ خوش نصیب افراد ہیں جنہیں
اللہ پاک نے اپنے محبوب کی صحبت اختیار کرنے کے لئے منتخب فرمایا، جنہوں نےدین اسلام کی ترویج و اشاعت کےلئے کفار
کےظلم و ستم کو برداشت کیا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابتدائے اسلام کے مشکل دور
میں بھوک پیاس برداشت کرکے، پیٹ پر پتھر باندھ کر عزیز واقارب کو خطرے میں ڈال کر
بھی پرچم اسلام کو سربلند رکھا یقیناً ان کی ان تھک محنتوں اور لازوال قربانیوں کا
نتیجہ ہے کہ آج ہم اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول کےنام لیوا ہیں۔
ویسے تو تمام
صحابۂ کرام حضور کے پیارےاور ہمارے دل کا سرور ہیں لیکن ان میں کچھ ایسے صحابہ ٔ
کرام بھی ہیں جن سے خاص نبی کریم ﷺکو محبت تھی اور آپ کی بارگاہ میں جب بھی کوئی
چیز لائی جاتی تو آپ اس کو اپنےان اصحاب میں تقسیم فرماتےجنہیں آج اصحاب صفہ کے
نام سے یادکیا جاتا ہے۔ یہ وہ خوش نصیب صحابہ ٔکرام تھے جنہوں نے اپنا گھر بارچھوڑ
کر مسجدنبوی میں ڈیرے ڈالے تھےاورمحبوب خدا کی زبان سے نکلنے والے جملوں کو اپنے
دلوں کے نگینوں میں بساتے تھے، انہی اصحاب میں شامل چند مشہور صحابہ ٔکرام جن میں
حضرت ابو ہریرہ، حضرت بلال حبشی،حضرت ابوذرغفاری، حضرت عمار بن یاسر،حضرت سلمان
فارسی،حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم کے نام نمایاں
ہیں۔
یادرکھئے!
بظاہراصحاب صفّہ بہت غریب تھے،اکثر فاقوں بھری زندگی میں رہتے، نبی کریم، رسول
عظیم ﷺ کے پاس جب کوئی تحفہ،صدقہ یا مال
غنیمت آتا توآپ اسےاصحاب صفہ پرخرچ فرماتے تھے اور کبھی کبھی ان عظیم لوگوں کے
کئی کئی دن فاقوں میں گزر جاتے تھے۔
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ شدید بھوک سے نڈھال تھے۔ مدد کی امید میں انہوں نے پہلے حضرت
ابوبکر اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے قرآن کی آیت پوچھی تاکہ وہ انہیں کھانا
کھلائیں، مگر دونوں گزر گئے۔ پھر نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے ان کی بھوک بھانپ
لی اور گھر لے گئے۔ وہاں دودھ کا ایک پیالہ موجود تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اہل صفہ کو
بلاؤ۔ حضرت ابو ہریرہ نے سب کو بلا کر ایک ایک کو وہی پیالہ دیا۔ سب نے سیر ہو کر
پیا لیکن دودھ ختم نہ ہوا۔ آخر میں آپ ﷺ نے خود پیا اور حضرت ابو ہریرہ کو بھی
فرمایا پیو۔ وہ بھی خوب سیر ہو کر پیے یہاں تک کہ مزید گنجائش نہ رہی۔ پھر باقی
دودھ آپ ﷺ نے خود نوش فرمایا۔ (بخاری،4/223، حدیث:6452)
معلوم ہوا کہ
نبی ﷺ کی برکت سے تھوڑا رزق بھی سب کے لیے کافی ہو گیا، اور آپ ﷺ نے ہمیشہ دوسروں
کو خود پر مقدم رکھا۔
حضور نبی کریم
ﷺ اپنی ضرورت کی چیزیں بھی حاجت مندوں کو دے دیا کرتے تھے، خود بھوکے رہ کر دوسروں
کو کھلایا کرتے تھے،صدقے میں سے کچھ نہ
لیتے البتہ ہدیہ قبول فرمالیا کرتے تھے۔
صحابہ کرام
کئی دن تک بھوک کی تکالیف برداشت کرتے تھے انکی ایسی حالت ہوجاتی تھی کہ کھڑے کھڑے
گر جاتے، ضعف اور کمزوری کی وجہ سے ان میں کھڑے ہونے کی طاقت نہیں ہوتی تھی۔علّامہ
محمّد بن علّان شافعی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:اصحاب صفہ بھوک کی وجہ سے
دوران نماز غش کھا کر گرجاتے۔ نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوکرانہیں تسلی دیتے
ہوئےفرمایا:اگر تمہیں پتا چل جائے کہ اللہ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجر وثواب ہے تو
تم خواہش کروکہ تمہارا فاقہ ومحتاجی مزید بڑھ جائے۔ (ترمذی،4/162، حدیث:2375)
یہاں سے معلوم
ہوا کہ آپ نے غریب و نادر صحابہ کرام کی دلجوئی فرمائی نیز نبی کریم ﷺ نے غربا لوگوں کے لیے تعلیم ارشاد فرمائی کہ
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: بھوکوں کوکھلاؤ بیماروں کی مزاج
پرسی کرو قیدی چھوڑاؤ۔ (بخاری،4/5، حدیث:5649) ہمیں چاہیے کہ اصحاب صفہ کی سیرت
مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے فاقہ و تنگدستی پر بے صبری اور شکوہ و شکایت نہیں سے کام
نہ لیں بلکہ صبر کر کے اس پر ملنے والے
اجر عظیم کے حصول کے لیے کوشش کریں۔
اللہ سے دعا
ہے کہ وہ ہمیں بھی نفس کی مخالفت کرتے ہوئے بھوک کی صعوبتیں برداشت کرنے کی توفیق
و ہمت عطا فرمائے اور اس پر ملنے والے اجر سے مستفیض فرمائے۔ آمین
ہمارے پیارے
نبی ﷺ کی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ آپ امیروں سے زیادہ غریبوں یتیموں
اور بے سہارا لوگوں کے قریب رہتے تھے ان سے محبت کرتے تھے مکہ اور مدینہ معاشرے
میں جہاں غریبوں کو بہت حقیر سمجھا جاتا وہاں آقا علیہ السلام انہیں اپنے دل اور
اپنے سینے سے لگایا کرتے ان کے دکھ بانٹتے ہر کام میں ان کی مدد کرتے، آقا علیہ
السلام کو غریب نادار صحابہ سے انتہائی محبت تھی۔
قرآن کریم میں
ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ
مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗ (پ
15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام
اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
اللہ پاک نے
مال و دولت کو بزرگی کا معیار نہیں بلکہ تقوی کو معیار قرار دیا ہے، آقا علیہ
السلام اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ مجھے مسکین کی حالت میں زندہ رکھ
مسکین کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کے
زمرے میں میرا حشر فرما۔ (ترمذی، 4/157، حديث:2359)
اصحابِ صفہ یہ
وہ صحابہ کرام ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے کوئی گھر اور کھانے پینے کے لیے کوئی ساز
و سامان نہیں ہوتا یہ مسجد نبوی میں صفہ کے چبوترے پر رہتے اور ہر قسم کی دنیاوی
فکر سے آزاد ہو کر ہر وقت قران و حدیث کی تعلیم حاصل کرنے اور دین کی تبلیغ کے لیے
وقف رہتے تھے۔
آقا علیہ
السلام اپنے صحابہ کرام سے بہت محبت فرماتے کہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ ایک
غریب غلام تھے لیکن آقا علیہ السلام نے انہیں اسلام کا پہلا موذن یعنی اذان دینے والا
قرار دیا اور انہیں اتنی عزت دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی انہیں ہمارے سردار
کہہ کر پکارتے تھے آقا علیہ السلام غریبوں غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ ایسے بیٹھتے
تھے جیسے وہ معاشرے کے سب سے معزز افراد ہوں، آقا علیہ السلام نادار صحابہ کی مالی مدد فرماتے اور ان کے عزت
نفس کا بہت ہی خیال رکھتے تھے حضور کے پاس جو کچھ مال غنیمت میں سے یا کوئی تحفہ آتا
تو سب سے پہلے ان صحابہ کرام کے درمیان تقسیم فرماتے، آقا علیہ السلام اکثر ان کے
پاس بیٹھتے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: قیامت کے دن تم لوگ امیروں سے
پانچ سو سال پہلے جنت میں جاؤ گے جس سے ان کی ساری تکلیفیں اور بھوک کا احساس ختم
ہو جاتا آقا علیہ السلام کے پاس جب بھی کوئی کھانا آتا آپ اصحاب صفہ کو بلاتے اور
ان کے ساتھ مل کر تناول فرماتے اگر دودھ کا ایک پیالہ ہوتا تو پہلے تمام
غریبوں نادار صحابہ کو پلاتے آخر میں خود
نوش فرماتے۔
Dawateislami