مسجدنبوی شریف میں ایک چبوترا تھا، جہاں (مختلف اوقات میں) تقریباً 400 یا 500 فقرائے مہاجرین بیٹھا کرتے تھے، ا نہیں اصحاب صفّہ کہتے ہیں۔  ان کے پاس گھر تھا نہ دنیوی سازو سامان اور نہ ہی کوئی کاروبار،غربت کاعالم یہ تھا کہ ان میں سے70 کے پاس ستر پو شی کے لیے پورا کپڑا بھی نہ تھا۔ان کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔مدینۂ منورہ میں آنے والے کا شہر میں کوئی جان پہچان والا نہ ہوتا تو وہ بھی اہل صفّہ میں شامل ہو جایا کرتا۔ (تفسیر نعیمی،3/137)

نبی کریم ﷺ نے انہیں ہدایت کے ستارے قرار دیا۔

حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں بھوک کی شدت کی وجہ سے ایک دن اس راستے پر بیٹھ گئے جس سے لوگ باہر جاتے تھے جانے دو عالم ﷺ میرے پاس سے گزرے تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرا چہرہ دیکھ کر میری حالت سمجھ گئے فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے اس کی لبیک یا رسول اللہ فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ میں پیچھے پیچھے چل دیا جب حضور علیہ السلام اپنے مبارک گھر پر جلوہ گر ہوئے تو اجازت لے کر میں بھی اندر داخل ہو گیا سرور کائنات ﷺ نے ایک پیالے میں دودھ دیکھا تو فرمایا یہ دودھ کہاں سے آیا ہے اہل خانہ نے عرض کی فلاں صحابی یا صحابیہ نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے فرمایا ابو ہریرہ میں نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ فرمایا جا کر اہل صفہ کو بلا لاؤ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں نہ ان کو گھر بار سے رغبت ہے نہ مال و دولت سے اور نہ وہ کسی شخص کا سہارا لیتے ہیں۔

جب محبوب رب ذوالجلال کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ وہ مال ان اصحاب صفہ کی طرف بھیج دیتے تھے اور خود اس میں سے کچھ نہیں لیتے تھے اور جب آپ ﷺ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو آپ ﷺ ان کے پاس بھیجتے اس میں سے خود بھی استعمال کرتے اور ان کو بھی شریک فرماتے مجھے یہ بات گراں گزری اور دل میں خیال آیا اہلِ صفہ کا اس دودھ سے کیا بنے گا میں اس کا زیادہ مستحق تھا کہ اس دودھ سے چند گھونٹ پیتا اور کچھ قوت حاصل کرتا جب اصحاب صفہ آ جائیں گے تو سرکار نامدار ﷺ مجھے ہی ارشاد فرمائیں گے کہ ان کو دودھ پیش کرو اس صورت میں بہت مشکل ہے کہ دودھ کے چند گھونٹ مجھے میسر ہوں لیکن اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی طاعت کے بغیر چارہ نہ تھا میں اصحاب صفہ کے پاس گیا اور ان کو بلایا وہ آئے انہوں نے شہنشاہ عرب ﷺ سے اجازت طلب کی آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی اور وہ گھر میں حاضر ہو کر بیٹھ گئے۔

پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: ابو ہریرہ میں نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا پیالہ پکڑو اور ان کو دودھ پلاؤ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ پکڑا میں وہ پیالہ ایک شخص کو دیتا وہ سیر ہو کر پیتا اور پھر وہ پیالہ مجھے لوٹا دیتا حتی کہ میں بلاتا پلاتا پیارے آقا ﷺ تک پہنچا اور تمام لوگ سیر ہو چکے تھے سرکار نامدار ﷺ نے پیالہ لے کر اپنے دست اقدس پر رکھا پھر میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا ابو ہریرہ میں نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے سچ فرمایا فرمایا بیٹھو اور پیو میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے لگا آپ ﷺ نے فرمایا پیو میں نے پیا آپ مسلسل فرماتے رہے پیو حتی کہ میں نے عرض کی نہیں قسم مگر اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور مزید گنجائش نہیں فرمایا فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے پیالہ پیش کر دیا آپ ﷺ نے اللہ پاک کی حمد بیان کی بسم اللہ پڑھی اور باقی دودھ نوش فرما لیا۔ (بخاری،4/223، حدیث:6452)

حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم ضعیف اور نادار لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ حضور ہمارے پاس تشریف لائے،اس وقت ایک شخص قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا اور ہمارے لئے دعا کر رہا تھا۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا:سب تعریفیں الله کے لئے جس نے میری امّت میں ایسے نیک سیرت بندے پیدا کئے، جن کے ساتھ مجھے رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔پھر ارشاد فرمایا:فقرا مسلمین کو قیامت کے روز کامل نور کی بشارت ہو کہ وہ غنی لوگوں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے یعنی پانچ سو (500) سال کی مقدار پہلے داخل ہوں گے یہ فقرا جنت میں نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور غنی لوگوں کا محاسبہ کیا جا رہا ہو گا۔ (در منثور،5/382)

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ جب غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو میرا اونٹ بہت لاغر اور ضعیف تھا۔ میرا خیال تھا کہ چند روز مزید ٹھہرکر حضور ﷺ سے جا ملوں گا۔ میں نے کئی روز تک اپنے اونٹ کو چارا کھلایا بعدازاں میں عازم سفر ہوا۔ جب ایک جگہ پہنچا تو میرے اونٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی جس کے باعث وہ آگے نہ چل سکا میں نے اپنا مال و متاع اپنی پشت پر رکھا اور چل دیا۔ راستے میں سخت گرمی سے دوچار ہونا پڑا۔ لشکر اسلام کے پاس پہنچا تو لوگوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کوئی شخص پیدل چلا آرہا ہے۔ سرکار ﷺ نے فرمایا: ابو ذر غفاری ہوں گے۔ جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے قیام کی حالت میں فرمایا: خوش رہو ابو ذر! رضی اللہ عنہ تم تنہا سفر کرتے ہو تنہا ہی اس دنیا سے جاؤ گے اور تنہا ہی بروز حشر اٹھوگے۔ (شواہد النبوۃ، رکن رابع، ص 125)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو پہلے چوب اور کوڑوں کی مار سے کفار نے نڈھال کردیا۔ پھر آگ کے دہکتے ہوئے کوئلو ں پر پیٹھ کے بل لٹا دیا۔ مگر یہ استقامت کا پہاڑ بن کر اسلام پر ثابت قدم رہے۔ اس حالت میں حضورﷺ ان کے قریب سے گزرے تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے یا رسول اللہ ﷺ کہہ کر پکارا، عمار کی یہ مصیبت دیکھ کر رحمت عالم ﷺ کا دل صدموں سے چور چور ہوگیا اور فرمایا: یا نار کونی بردًا وّ سلٰمًا علٰی عمّارٍ کما کنت علٰی ابراھیم یعنی اے آگ! تو عمار پر اس طرح ٹھنڈک او رسلامتی بن جا جس طرح تو حضرت ابراہیم علیہ السّلام پر ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی تھی۔ (طبقات کبری لابن سعد، 3/188) رحمت عالم ﷺ حضرت عمار کے زخموں پر اپنا دست شفقت پھیرتے ہوئے فرماتے کہ عمار طیب و مطیب یعنی عمار پاکیزہ اور خوشبودار ہے۔ (صحابہ کرام کا عشق رسول، ص 120)

اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ غریب و نادار صحابہ کرام نے فقر کے باوجود اسلام کا پیغام پھیلایا۔ غریبی دین کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ انھوں نے کبھی بھی دین اسلام کا دامن نہیں چھوڑا۔ مشکلات کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کیا۔ مال نہ ہونے کی صورت میں جسمانی محنت اور جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اللہ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔