ہمارے پیارے آقا ﷺ نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت امرا کی بنسبت غریب اور نادار لوگ زیادہ اسلام کے قریب ہوئے اور انکو زیادہ حضور علیہ السلام کا قرب نصیب ہوا جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ہجرت کا حکم ارشاد فرمایا تو تمام صحابہ کرام اپنا مال چھوڑ کر آپکے فرمان عالی پر عمل کر کے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آ گئے۔

مہاجرین فقرا آقائے دو جہاں ﷺ کی بارگاہ میں شکایت کی کہ ان پر اغنیا مسلمانوں کو فضیلت حاصل ہے پس حضور خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا کہ اے فقرا کے گروہ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤ کہ فقرا مومنین اغنیا سے پانچ سو سال قبل جنت میں داخل ہوں گے۔

سبحان اللہ دیکھا آپ لوگوں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فقرا کو کس قدر بڑی خوشخبری سنائی یہ آپکی ان سے محبت ہے اور اللہ بھی اس بات کو محبوب رکھتا ہے۔

سرور عالم ﷺ کی غریبوں سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: تم مساکین سے محبت رکھو پس بے شک میں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: اے اللہ مجھے مسکین زندہ رکھ، اور مجھے مسکینی کی حالت میں اس دنیا فانی سے اٹھانا،اور میرا حشر مسکینوں کے ساتھ کرنا۔ (ترمذی، 4/157، حديث:2359)

کیا کسی سے محبت کے لیے اتنا کافی نہیں کہ دنیا اور آخرت دونوں میں اسکی بھلائی چاہی جائے اور اسکے ساتھ رہا جائے آپکی مجالس اکثر غریب صحابہ کرام سے بھری ہوتی تھیں، غریب صحابہ کرام تو اللہ کو بھی محبوب ہیں کی انکی شان میں قرآن کی آیت نازل فرمائی: وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ- (پ 7، الانعام: 52)ترجمہ: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے۔

اقرع بن حابس تیمی اور عیینہ بن حصن الفزاری حضور کے پاس آئے تو آپ کے پاس حضرت صہیب، بلال، عمار، خباب، کو پایا جو مومنوں میں سے غریب تھے مالی اعتبار سے پس جب ان دونوں نے انکو حضور کے پاس دیکھا تو انہیں حقیر جانا وہ تنہا پیارے آقا ﷺ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ان سے الگ مجلس رکھیں لوگ ہمیں عرب کے فضلا سے جانتے ہیں جب آپکے پاس عرب کا کوئی قاصد آئے اور ہمیں ان غلاموں کے ساتھ دیکھیں تو ہمیں اس بات سے حیا آتی ہے، جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ ان سے دور ہو جائیں اور جب ہم چلے جائیں تو آپ ان کے ساتھ بیٹھ جائیں اگر چاہیں فرمایا: ہاں، تو وہ مسجد کے ایک کنارے پر بیٹھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت مبارکہ لیکر آئے۔

اس میں اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن کا ذکر تھا پھر اسی سورت سورہ انعام کی آیت 53 اور 54 بھی نازل ہوئی اسکے بعد وہ دونوں ان سے قریب ہوئے یہاں تک کہ انکے گھٹنے آپس میں ملے اور وہ تمام حضرات حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی مجلس میں ساتھ تھے۔

اللہ اکبر کیا کہنے حضور خاتم النبیین ﷺ کے کہ آپ صرف امیروں ہی نہیں بلکہ غریبوں کی مجلس کو بھی اختیار فرماتے بلکہ انکی مجالس کو زیادہ محبوب رکھتے اور امیروں کی وجہ سے غریب صحابہ کرام کو دور نہ بھگاتے نہ انکی دل آزاری کرتے۔

اللہ ان کا صدقہ ہمیں بھی خلد میں آقا علیہ الصلاۃ والسلام کا پڑوس نصیب کرے۔آمین

اصحاب صفہ مسجد نبوی کے چبوترے پر رہنے والے 70 غریب صحابہ تھے حضور علیہ الصلاۃ والسلام خود ان کے پاس تشریف لے جاتے، ان کا حال پوچھتے، اور کبھی کبھی اپنے دست مبارک سے کھانا کھلاتے۔

اللہ اللہ حضور علیہ السلام کی عاجزی! کہ دونوں جہانوں کے مالک ہونے کے باوجود بھی غربا سے محبت کا اظہار۔

حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشی غلام تھے۔ امیر نہ تھے نہ ظاہری حسن مگر حضور ﷺ نے فرمایا بلال! جنت میں میں نے تمہارے جوتوں کی آواز سنی۔ یہی غریبوں سے محبت ہے۔

اللہ ہمیں بھی غریبوں سے محبت کرنے والا بنائے اور قیامت کے دن آقا ﷺ کے ساتھ اٹھائے۔ آمین