حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت احمد عطاریہ،جامعہ غوثیہ طاہریہ مٹیاری
وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ
الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗ (پ
15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام
اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔یہ آیت مبارکہ ان مفلس و نادار صحابہ کرام
کے شان میں نازل ہوئی جو دنیاوی اعتبار سے مال و منال اور اہل و عیال نہ رکھتے تھے
ورنہ حقیقت میں تو انہیں دونوں جہانوں کے سردار ﷺ کا قرب اور رفاقت میسر تھی جس سے
بڑھ کر اور کوئی دولت نہیں ہو سکتی۔ اس آیت میں اللہ نے حکم فرمایا کہ اے حبیب ﷺ اگرچہ
اہل دنیا اور مالدار طبقے کے لوگ انہیں اپنی مجالس سے دھتکارتے ہیں لیکن آپ اپنی
جان کو ان لوگوں سے مانوس رکھیں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا
چاہتے ہوئے۔
لہذا حضور
علیہ الصلوۃ والسلام جو کہ غریبوں اور
مسکینوں کے حامی و یاور تھے اللہ پاک کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے ان صحابہ کرام
سے بہت مودت و محبت فرماتے تھے نیز ان حضرات پر آپ کی خصوصی نظر عنایت رہتی تھی
چنانچہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے وقت چونکہ مہاجرین صحابہ اپنے اہل
و عیال اور بھائی بندوں کو چھوڑ کر بے سر و سامان تارک الوطن ہو گئے تھے لہذا حضور
علیہ الصلوۃ والسلام نے مسجد جامع کی تعمیر کے بعد مہاجرین و انصار کے درمیان رشتہ
اخوت و تعلق برادری قائم کیا تاکہ مہاجرین غربت کی وحشت اور بال بچوں کی جدائی اور
مفارقت محسوس نہ کریں نیز وہ ایک دوسرے کے
ممد و معاون بن جائیں اور سبحان اللہ ہوا بھی ایسا ہی کہ صرف حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کا عقد مواخات فرمانا تھا اور وہ حضرات درحقیقت بھائی بھائی بن گئے۔ (سیرت
رسول عربی، ص 79)
یہ مفتقرین
صحابہ اپنی تنگ حالی کے باوجود کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے تھے لیکن غیب دان
نبی تو اپنے غلاموں کے مطالب و حاجات کو بے کہے ہی نہ صرف جان لیا کرتے تھے بلکہ
ان کی حاجت روائی بھی فرما دیا کرتے تھے چنانچہ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ
کی قسم بھوک کی زیادتی کی وجہ سے میرا پیٹ زمین سے لگ جایا کرتا تھا اور بھوک کی
شدت کی وجہ سے میرا یہ حال ہوتا تھا کہ میں نے اپنے پیٹ کو پتھر سے لپیٹا ہوا ہوتا
تھا چنانچہ اسی کیفیت میں ایک دن میں گزرگاہ عام پر بیٹھ گیا جہاں سے صحابہ کرام
کی آمد و رفت رہتی تھی پس جب سب سے پہلے وہاں سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا گزر
ہوا تو میں نے ان سے قرآن پاک کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا اور میری ان سے
سوال پوچھنے کی غرض فقط یہ تھی کہ وہ میری حالت سے آشنا ہو کر مجھے کھانا کھلا کر
سیر کر دیں لیکن وہ میری کیفیت کو نہ سمجھ سکے اور تشریف لے گئے پھر فاروق کے اعظم
رضی اللہ عنہ اس راستے سے گزرے میں نے ان سے اسی منشا و خواہش کے تحت کتاب اللہ کی
ایک آیت کے متعلق سوال کیا لیکن میں اس بار بھی فائز المرام نہ ہو پایا کہ فاروق
اعظم رضی اللہ عنہ بھی بغیر میری حاجت روائی کیے گزر گئے۔
پھر میرے
سامنے رحمت عالمیان ﷺ رونق افروز ہوئے آپ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرے چہرے پر
بھوک کی وجہ سے جو آثار نمایاں تھے اسے بھانپ گئے چنانچہ لب ہائے قدس کو جنبش دے کر فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے عرض کی
لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا ساتھ آؤ چنانچہ میں آپ کے فرمان کی تابعداری کرتے ہوئے
آپ کے پیچھے ہو لیا یہاں تک کہ آپ کے ساتھ کاشانہ اقدس میں داخل ہو گیا حضور علیہ
الصلوۃ والسلام نے وہاں ایک دودھ کا پیالہ پایا جو ان کی طرف کسی نے تحفتًا بھیجا تھا چنانچہ مجھ سے فرمایا اے ابو
ہریرہ تم جاؤ اور اصحاب صفہ کو بلا آؤ اس پر آپ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھ پر
ناگوار گزری فرط حیرت سے میں سوچنے لگا کہ ایک پیالہ دودھ ہے میں بھوک کی شدت سے بے حال و نڈھال ہوں اور آپ یہ مجھے
پلانے کی بجائے فرما رہے ہیں کہ اصحاب صفہ
کو بلا لاؤ اگر وہ سب آگئے تو مجھے امید نہیں کہ مجھے اس دودھ کا کچھ حصہ بھی مل
سکے گا لیکن اللہ اور رسول ﷺ کی اتباع و اطاعت کے سوا کیا چارہ تھا۔
بہرحال میں ان
لوگوں کو بلا کر لے آیا جب وہ سب اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو سرکار ابد قرار
نے مجھ سے فرمایا اے ابو ہریرہ پیالہ پکڑو
اور باری باری سب کو پلاتے جاؤ میں پیالہ ہر ایک کو دیتا گیا یہاں تک کہ سب نے جی
بھر کر دودھ پی لیا تو میں نے پیالہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا آپ نے مسکراتے
ہوئے میری طرف دیکھا اور فرمایا اب صرف ہم دونوں ہی باقی رہ گئے ہیں میں نے عرض کی
حضور آپ نے سچ فرمایا تو فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو پس میں نے پینا شروع کیا جب میں
پیالہ رکھنا چاہتا تو آپ مجھ سے فرماتے اور پیو پس میں پیتا رہا پس آپ مسلسل یہی
فرماتے رہے یہاں تک کہ جب میں پوری طرح شکم سیر ہو گیا تو عرض کی حضور اللہ کی قسم
اب بالکل گنجائش نہیں تب آپ ﷺ نے پیالہ لے کر باقی ماندہ کو دودھ بسم اللہ پڑھ کر
خود نوش فرما لیا۔ (بخاری،4/223، حدیث:6452)
سبحان اللہ
قربان جائیں پیارے آقا ﷺ کی شان کریمی پر کہ کس ادائے دل نوازی سے اپنے پیارے
صحابی کی درپردہ کیفیت و حاجت کو جان کر ان کو بہر مند فرما دیا پیاری بہنوں معلوم
ہوا کہ یقیناً غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ دل جوئی کرنا اور ان کی حاجت روائی کرنا
کریم آقا ﷺ کی سنت ہے لہذا اس سنت کو ادا کرتے جائیں اور اپنے لئے سرمایہ آخرت
حاصل کرتے جائیں اور اس کے لیے جتنی بھی عاجزی کرنی پڑے اس میں اپنی کسر شان سمجھیں، چنانچہ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک سیاہ
فام عورت جو مسجد نبوی میں جھاڑ پونچھ کا کام کرتی تھی ایک بار حضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے اسے غائب پا کر اس کے بارے میں استفسار فرمایا چنانچہ اس کی فوتگی کے
بارے میں اطلاع دی گئی اس پر رحمت عالم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھے اس کے فوت
ہونے کی خبر پہلے کیوں نہ دی، چنانچہ جب اس کی قبر کے بارے میں رہنمائی کی گئی تو
آپ نے ازراہ رحمت و شفقت اس پر نماز جنازہ پڑھی اور ان کی گور تاریک کو بقعہ نور
سے تبدیل کر دیا۔ سبحان اللہ
ذرا غور کریں
کہ مطلع ہونے کے بعد آقا علیہ الصلوۃ والسلام وہیں سے بھی ان صحابیہ کے لیے دعائے
مغفرت فرما سکتے تھے لیکن آپ کمال تواضع و
انکساری کرتے ہوئے بذات خود ان کی قبر پر تشریف لے گئے۔
اللہ سے دعا
ہے کہ اللہ پاک ہمیں پیارے حبیب ﷺ کی اس سنت کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami