حضور نبی کریم ﷺ کی غریب، مسکین، اور نادار صحابہ کرام خصوصا اصحاب صفہ سے محبت اور شفقت بے مثال تھی۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کی دل جوئی فرماتے اور ان کو اپنے پر ترجیح دیتے تھے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ 15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔

تفسیر نعیمی میں اس آیت کریمہ کے تحت ہے: (اللہ پاک یہ فرما رہا ہے کہ) اے حبیب مکرم ﷺ! آپ اپنے آپ کو تمام عمر، ہر محفل، ہر مجلس، ہر گھڑی، دن رات، صبح شام، انہی لوگوں کے ساتھ رہیے رکھیے جو مخلص(sincere) ہیں، جو مسکین ہیں، جو فقیر ہیں، جو غریب ہیں، جو سیدھے سادے ہیں، جو نہایت خلوص سے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں، الغرض! ہر وقت ہی، ہر سانس میں ہر کروٹ میں ذکر الہی کرتے ہیں۔ ساری دنیا سے منہ موڑ کر بس اپنے مولا کی ذات کا ہی ارادہ رکھتے ہیں۔ (اور اے حبیب مکرم!) ان کفار سے دور ہی رہیے جو مختلف وفد بن کر آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کو اپنے ایمان لانے کے لیے طرح طرح کی شرطیں لگاتے ہیں کہ ہم اور ہمارا قبیلہ آپ پر ایمان تب لائیں گے جب آپ اپنے پاس سے ان غریب اصحاب صفہ کو ہٹا دیں گے ہمیں ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے اور ہماری سرداری پر فرق آتا ہے بس یہی ایک رکاوٹ ہے جو ہم آپ کی نبوت و رسالت، صداقت، امانت اور دیانت پر ابھی ایمان تک نا لا سکے۔ (اس پر اللہ پاک ارشاد فرما رہا ہے) اے محبوب! ان مکاروں کی باتوں میں نہ آنا، اور اپنی رحمت و عافیت والی نگاہوں کو ان پاکیزہ باطن والوں سے مت ہٹانا کیونکہ آپ کی یہ معرفت والی نظریں ہی تو ان حضرات کی کل کائنات ہیں، آپ کی جدائی ان کے لیے تکلیف کا باعث ہے،اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور نبی کریم ﷺ کو فرمایا گیا کہ اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اور اس کی رضا چاہتے ہیں یعنی جو اخلاص کے ساتھ ہر وقت اللہ پاک کی فرمانبرداری میں مشغول رہتے ہیں (تفسیر نعیمی، 15/576 بتغیر)

غریب صحابہ کرام سے محبت کے واقعات:

1) حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حبیب کبریا ﷺ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو کچھ صحابہ کرام نماز کے اندر حالت قیام میں بھوک کی شدت کے سبب گر پڑتے اور یہ اصحاب صفہ تھے، حتی کہ کچھ لوگ کہنے لگتے یہ دیوانے ہیں، جب سرکار مدینہ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے اے اصحاب صفہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے لیے اللہ کے ہاں کیا اجر و ثواب ہے تو تم اس بات کو پسند کرو کہ تمہارے فاقے اور حاجت مندی میں مزید اضافہ ہو۔ (بخاری، 4/162، حدیث: 2375)

2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو اصحاب صفہ میں سے تھے یہ فرماتے ہیں میں نے بھوک کے سبب اپنی یہ حالت بھی دیکھی کہ مدینے کے تاجور، محبوب رب اکبر ﷺ کے منبر منور اور ام المومنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مطہرہ کے درمیان بے ہوش ہو کر گر پڑتا کوئی آدمی آتا اور میری گردن پر پاؤں رکھ دیتا، وہ سمجھتا کہ مجھ پر جنون کی کیفیت طاری ہے، حالانکہ مجھے جنون وغیرہ کچھ نہ ہوتا یہ حالت بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی۔ (بخاری، 4/515، حدیث: 7324)

حضور ﷺ کی اپنے خاندان پر ترجیح

جب بھی نبی کریم ﷺ کے پاس بحرین یا دیگر علاقوں سے مال غنیمت یا فتوحات کا مال آتا تو آپ ﷺ سب سے پہلے اصحاب صفہ کی خبر گیری فرماتے۔ ایک بار سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر کے کاموں کی مشقت کا ذکر کر کے آپ ﷺ سے ایک خادم مانگا تو آپ ﷺ نے صاف انکار فرما دیا: میں تمہیں خادم کیسے دے دوں جبکہ صحابہ صفہ کے پیٹ بھوک کی وجہ سے مڑے جا رہے ہیں؟ (مسند امام احمد، 1/106)

مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں

دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

ان واقعات سے حضور ﷺ کی اپنے غریب و نادار صحابہ کرام سے بے پناہ محبت کا ثبوت ملتا ہے۔