حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت محمد شاہد،فیض مدینہ نارتھ کراچی
آیت مبارکہ ہے:
وَ لَا تَطْرُدِ
الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗؕ- (پ
7، الانعام: 52)ترجمہ: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام
اس کی رضا چاہتے۔
اس آیت کا شان
نزول یہ ہے کہ کفار کی ایک جماعت حضور علیہ السلام کی خدمت میں آئی انہوں نے دیکھا
کہ تاجدار رسالت ﷺ کے ارد گرد غریب صحابہ رضی اللہ عنہ کی ایک جماعت حاضر ہے جو
ادنیٰ درجے کے لباس پہنے ہوئے ہیں یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس
بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں
اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں حضور علیہ السلام نے اس بات کو منظور نہ فرمایا اس
پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ ان مخلص و غریب صحابہ کرام کو اپنی بارگاہ
سے دور نہ کرو جو صبح شام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں ان غریب صحابہ کا
رزق آپ علیہ السلام پر نہیں کہ غربت کی وجہ سے انہیں دور کر دیا جائے اور نہ آپ کی
ذمہ داری ان پر ہے سب کا حساب اللہ پر ہے وہی تمام خلق کو روزی دینے والا ہے اور
اس کے سوا کسی کا ذمہ حساب کا نہیں۔
حضور علیہ
الصلاۃ والسلام غریب اور فقرا صحابہ سے محبت فرماتے تھے، ابن ماجہ شریف کی حدیث ہے:
حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا کہ مسکینوں سے محبت کرو بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو
اپنی دعا میں فرماتے ہوئے سنا اللّٰهمّ أحيني مسكينًا، وأمتني مسكينًا،
واحشرني في زمرة المساكين ترجمہ: اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت
میں زندہ رکھ مسکین کی حالت میں وفات عطا فرما اور میرا حشر مساکین کے گروہ میں
فرما۔ (ترمذی، 4/157، حديث:2359)
حضرت ابو
ہریرہ فرماتے ہیں بھوک کی شدت کی وجہ سے ایک دن اس راستے پر بیٹھ گئے جس سے لوگ
باہر جاتے تھے جانے دو عالم ﷺ میرے پاس سے گزرے تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرا
چہرہ دیکھ کر میری حالت سمجھ گئے فرمایا اے ابو ہریرہ میں نے اس کی لبیک یا رسول
اللہ فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ میں پیچھے پیچھے چل دیا جب حضور علیہ السلام اپنے
مبارک گھر پر جلوہ گر ہوئے تو اجازت لے کر میں بھی اندر داخل ہو گیا سرور کائنات ﷺ
نے ایک پیالے میں دودھ دیکھا تو فرمایا یہ دودھ کہاں سے آیا ہے اہل خانہ نے عرض کی
فلاں صحابی یا صحابیہ نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے فرمایا ابو ہریرہ میں نے عرض کی
لبیک یا رسول اللہ فرمایا جا کر اہل صفہ کو بلا لاؤ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں اہل
صفہ اسلام کے مہمان ہیں نہ ان کو گھر بار سے رغبت ہے نہ مال و دولت سے اور نہ وہ
کسی شخص کا سہارا لیتے ہیں۔
جب محبوب رب
ذوالجلال کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ وہ مال ان اصحاب صفہ کی طرف بھیج دیتے تھے اور
خود اس میں سے کچھ نہیں لیتے تھے اور جب آپ ﷺ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو آپ ﷺ ان کے
پاس بھیجتے اس میں سے خود بھی استعمال کرتے اور ان کو بھی شریک فرماتے مجھے یہ بات
گراں گزری اور دل میں خیال آیا اہلِ صفہ کا اس دودھ سے کیا بنے گا میں اس کا زیادہ
مستحق تھا کہ اس دودھ سے چند گھونٹ پیتا اور کچھ قوت حاصل کرتا جب اصحاب صفہ آ جائیں گے تو سرکار نامدار ﷺ مجھے
ہی ارشاد فرمائیں گے کہ ان کو دودھ پیش کرو اس صورت میں بہت مشکل ہے کہ دودھ کے
چند گھونٹ مجھے میسر ہوں لیکن اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی طاعت کے بغیر چارہ نہ
تھا میں اصحاب صفہ کے پاس گیا اور ان کو بلایا وہ آئے انہوں نے شہنشاہ عرب ﷺ سے
اجازت طلب کی آپ ﷺ نے اجازت عطا فرمائی اور وہ گھر میں حاضر ہو کر بیٹھ گئے۔
پیارے آقا ﷺ نے
فرمایا: ابو ہریرہ میں نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا پیالہ پکڑو اور ان کو
دودھ پلاؤ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ پکڑا میں وہ پیالہ ایک شخص کو
دیتا وہ سیر ہو کر پیتا اور پھر وہ پیالہ مجھے لوٹا دیتا حتی کہ میں بلاتا پلاتا
پیارے آقا ﷺ تک پہنچا اور تمام لوگ سیر ہو چکے تھے سرکار نامدار ﷺ نے پیالہ لے کر
اپنے دست اقدس پر رکھا پھر میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا ابو ہریرہ میں
نے عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں عرض کی یا
رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے سچ فرمایا فرمایا بیٹھو اور پیو میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے
لگا آپ ﷺ نے فرمایا پیو میں نے پیا آپ مسلسل فرماتے رہے پیو حتی کہ میں نے عرض کی
نہیں قسم مگر اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور مزید گنجائش
نہیں فرمایا فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے پیالہ پیش کر دیا آپ ﷺ نے اللہ پاک کی حمد
بیان کی بسم اللہ پڑھی اور باقی دودھ نوش فرما لیا۔ (بخاری،4/223، حدیث:6452)
حضور ﷺ اصحاب
صفہ اور دیگر غریب اور نادار صحابہ کرام سے محبت فرماتے اس بارے میں بخاری شریف
اور دیگرصحاح ستہ میں واضح احادیث مبارکہ موجود ہیں آپ اکثر اصحاب صفہ اور مساکین
کے ساتھ زمین پر بیٹھتے انکے دکھ درد میں شریک ہوتے اور خود کو ان سے الگ نہ
سمجھتے تھے۔
غریب اور
نادار صحابہ کرام سے حضور ﷺ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے
انکو اپنا مقرب بنایا ہوا تھا انکے ساتھ بیٹھنا پسند فرمایا اور امت کو انکی وجہ
سے رزق ونصرت ملنے کی نوید سنائی۔
امام بخاری نے
بخاری شریف میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت نقل کی ہے کہ جب انہوں نے خود کو
مال و دولت یا شجاعت کی بناء پر کچھ سمجھا
تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: تمہیں تمہارے کمزوروں کی وجہ سے رزق اور مدد دی جاتی
ہے۔ (ابوداود، 3/39، حدیث: 2594)
ان روایات سے
معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان حضرات سے کتنی محبت فرماتے لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ تمام
صحابہ کرام سے محبت کریں۔
اللہ کریم
ہمیں ان حضرات سے حقیقی محبت نصیب فرمائے اور انکا صدقہ ہمیں عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami