حضور
کی غریب و نادار صحابہ سے محبت از بنت رفیق،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
جن نے جان
جاناں ﷺ کو حالت ایمان میں دیکھا یا آپ ﷺ کی صحبت پائی اور اسلام ہی پر وفات پائی،
وہ صحابی ہے۔
اللہ پاک نے
اپنے محبوب ﷺ کو ایسی عظیم صفات سے نوازا کہ آپ ﷺ ہر طبقے کے لوگوں سے محبت
فرماتے، خصوصاً غریب، مسکین اور نادار مسلمانوں کے ساتھ آپ کی شفقت و محبت بے مثال
تھی۔ آپ ﷺ کے نزدیک کسی انسان کی عزت کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ
اور اخلاص تھا۔
قرآن کریم میں
ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ
رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ
15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام
اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
کفار کے
سرداروں نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں غریب اور شکستہ حال لوگوں کے ساتھ
بیٹھنے میں شرم آتی ہے، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے جدا کردیں تو ہم اسلام لے آئیں
گے۔ مگر رحمت عالم ﷺ نے غریب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنی مجلس سے جدا کرنا
پسند نہ فرمایا۔
اس واقعے سے
معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں غربت کوئی عیب نہیں۔ غریب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم
اگرچہ دنیاوی اعتبار سے کمزور اور نادار تھے، مگر اللہ پاک کے نزدیک ان کا مقام
بہت بلند تھا۔ وہ صبح و شام اللہ پاک کو یاد کرتے اور اس کی رضا کے طلبگار رہتے
تھے۔ اسی لیے حضور اکرم ﷺ ان سے محبت فرماتے اور انہیں اپنی صحبت سے نوازتے تھے۔
ایک اور موقع
پر قبیلۂ مضر کے فقروفاقہ والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی حالت دیکھ کر حضور
اکرم ﷺ بہت غمگین ہوئے اور صحابۂ کرام کو ان کی مدد کرنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے
کی ترغیب دی۔ جب صحابۂ کرام نے ان کی مدد کی تو حضور اکرم ﷺ بہت خوش ہوئے۔
لہٰذا ہمیں
بھی چاہیے کہ غریبوں اور نادار مسلمانوں کو حقیر نہ سمجھیں، ان کے ساتھ محبت و
شفقت سے پیش آئیں، ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں اور ان کی عزت نفس کا
خیال رکھیں۔
یاد رکھیں! مال
و دولت انسان کو اللہ پاک کا محبوب نہیں بناتی بلکہ ایمان، تقوی، اخلاص اور نیکی
انسان کا مقام بلند کرتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے
غریب و نادار مسلمانوں سے محبت کرنے اور ان کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami