حضور نبی کریم ﷺ تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ ﷺ غریب، نادار، مسکین اور کمزور لوگوں سے خصوصی محبت فرماتے، ان کی دل جوئی کرتے اور ان کے حقوق کی حفاظت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ ﷺ کی بارگاہ میں انسان کی قدر و منزلت مال و دولت سے نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ اور اخلاص سے تھی۔

رسول اللہ ﷺ نے غریب مسلمانوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: کیا تمہیں تمہارے کمزور لوگوں ہی کی وجہ سے مدد نہیں دی جاتی اور رزق نہیں دیا جاتا؟ (ابوداود، 3/39، حدیث: 2594)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحمت حاصل ہونے کے اسباب میں کمزور اور محتاج لوگوں کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک بھی شامل ہے۔

اصحاب صفہ میں بہت سے ایسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جو انتہائی سادہ زندگی گزارتے اور مالی طور پر محتاج تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان کی خبر گیری فرماتے اور صحابہ کرام کو بھی ان کے ساتھ تعاون کی ترغیب دیتے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ اسلام کے مہمان تھے اور جب رسول اللہ ﷺ کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ اسے ان کے لیے بھیج دیتے، جبکہ ہدیہ آتا تو آپ ﷺ اس میں سے خود بھی تناول فرماتے اور ان کے لیے بھی بھیجتے۔

حضور اکرم ﷺ کی محبت کا انداز یہ تھا کہ آپ ﷺ غریب صحابہ کو کمتر نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے ایمان اور اخلاص کی قدر فرماتے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ایک آزاد کردہ غلام تھے، مگر رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ان کا مقام بہت بلند تھا۔ اسی طرح حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی ظاہری مال و دولت کے اعتبار سے امیر نہ تھے، لیکن ایمان و تقویٰ کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے محبوب اور معزز ساتھی تھے۔

آپ ﷺ یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں کی کفالت کی بھی بہت ترغیب دیتے تھے۔ فرمایا: بیوہ اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔ (بخاری، 3/511، حدیث: 5353)

اسی طرح یتیم کی کفالت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔

(بخاری، 4/102، حدیث: 6005)

رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے میں غریب اور نادار افراد کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کی عزت نفس کا خیال رکھنا، ضرورت کے وقت ان کی مدد کرنا، ان کے ساتھ محبت سے پیش آنا اور انہیں معاشرے کا باعزت فرد سمجھنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ غریب و نادار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے عمل سے ان کی دل جوئی کی اور اپنے ارشادات کے ذریعے امت کو بھی ان کی مدد اور عزت کرنے کا حکم دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سیرت مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ محبت، احترام اور ہمدردی کا معاملہ کریں۔