نبی کریم ﷺ کی کئی صفات ہیں،آپ کی ایک صفت محبت بھی ہے جو ایک عظیم صفت ہے۔آقا ﷺ بچوں اور تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت فرماتے۔حضرت علامہ مولانا سید مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمان کو چاہیے کہ صحابہ کرام کا نہایت ادب رکھے،دل میں ان کی عقیدت و محبت کو جگہ دے،ان کی محبت حضور ﷺ کی محبت ہے اور جو بد نصیب صحابہ کرام کی شان میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولے وہ دشمن خدا و رسول ﷺ ہیں۔ مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھیں۔ (سوانح کربلا، ص 31)

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

حضرت محمد ﷺ تمام انسانوں سے بے حد محبت کرتے تھے، لیکن غریب اور نادار صحابہ سے آپ ﷺ کی خاص شفقت تھی۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کی خیریت دریافت کرتے، ان کی مدد فرماتے اور انہیں کبھی حقیر نہیں سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔آپ ﷺ نے مسلمانوں کو غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنے کی تلقین فرمائی۔ آپ ﷺ خود بھی سادہ زندگی گزارتے تھے اور جو کچھ ملتا، ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اسی لیے غریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ سے بے حد محبت کرتے تھے۔مدینہ منورہ میں بہت سے غریب صحابہ مسجد نبوی کے چبوترے پر رہتے تھے، جنہیں اصحاب صفہ کہا جاتا تھا۔ حضور ﷺ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے، ان کی تعلیم و تربیت فرماتے، ان کے ساتھ کھانا کھاتے اور جب کہیں سے کھانا یا تحفہ آتا تو پہلے ان کا خیال رکھتے تھے۔‏

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ 15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ سرداران کفار کی ایک جماعت نے سرکار دوعالم ﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں غربا اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے۔ اگر آپ انہیں اپنی صحبت سے جدا کردیں تو ہم اسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لانے سے خلق کثیر اسلام لے آئے گی۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (روح البیان، 5/238)

اور نبی کریم ﷺ کو فرمایا گیا کہ اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں یعنی جو اخلاص کے ساتھ ہر وقت اللہ کی طاعت میں مشغول رہتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی تربیت خود ربّ العالمین فرماتا ہے جیسے یہاں ہوا کہ ایک معاملہ در پیش ہوا تو اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کی خود تربیت فرمائی اور آپ کی کمال کی طرف رہنمائی فرمائی۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ اچھوں کے ساتھ رہنا اچھا ہے اگرچہ وہ فقرا ہوں اور بروں کے ساتھ رہنا برا ہے اگرچہ وہ مالدار ہوں۔