ہمارے پیارے
نبی ﷺ کی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ آپ امیروں سے زیادہ غریبوں یتیموں
اور بے سہارا لوگوں کے قریب رہتے تھے ان سے محبت کرتے تھے مکہ اور مدینہ معاشرے
میں جہاں غریبوں کو بہت حقیر سمجھا جاتا وہاں آقا علیہ السلام انہیں اپنے دل اور
اپنے سینے سے لگایا کرتے ان کے دکھ بانٹتے ہر کام میں ان کی مدد کرتے، آقا علیہ
السلام کو غریب نادار صحابہ سے انتہائی محبت تھی۔
قرآن کریم میں
ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ
مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ
وَجْهَهٗ (پ
15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام
اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔
اللہ پاک نے
مال و دولت کو بزرگی کا معیار نہیں بلکہ تقوی کو معیار قرار دیا ہے، آقا علیہ
السلام اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ مجھے مسکین کی حالت میں زندہ رکھ
مسکین کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کے
زمرے میں میرا حشر فرما۔ (ترمذی، 4/157، حديث:2359)
اصحابِ صفہ یہ
وہ صحابہ کرام ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے کوئی گھر اور کھانے پینے کے لیے کوئی ساز
و سامان نہیں ہوتا یہ مسجد نبوی میں صفہ کے چبوترے پر رہتے اور ہر قسم کی دنیاوی
فکر سے آزاد ہو کر ہر وقت قران و حدیث کی تعلیم حاصل کرنے اور دین کی تبلیغ کے لیے
وقف رہتے تھے۔
آقا علیہ
السلام اپنے صحابہ کرام سے بہت محبت فرماتے کہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ ایک
غریب غلام تھے لیکن آقا علیہ السلام نے انہیں اسلام کا پہلا موذن یعنی اذان دینے والا
قرار دیا اور انہیں اتنی عزت دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی انہیں ہمارے سردار
کہہ کر پکارتے تھے آقا علیہ السلام غریبوں غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ ایسے بیٹھتے
تھے جیسے وہ معاشرے کے سب سے معزز افراد ہوں، آقا علیہ السلام نادار صحابہ کی مالی مدد فرماتے اور ان کے عزت
نفس کا بہت ہی خیال رکھتے تھے حضور کے پاس جو کچھ مال غنیمت میں سے یا کوئی تحفہ آتا
تو سب سے پہلے ان صحابہ کرام کے درمیان تقسیم فرماتے، آقا علیہ السلام اکثر ان کے
پاس بیٹھتے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: قیامت کے دن تم لوگ امیروں سے
پانچ سو سال پہلے جنت میں جاؤ گے جس سے ان کی ساری تکلیفیں اور بھوک کا احساس ختم
ہو جاتا آقا علیہ السلام کے پاس جب بھی کوئی کھانا آتا آپ اصحاب صفہ کو بلاتے اور
ان کے ساتھ مل کر تناول فرماتے اگر دودھ کا ایک پیالہ ہوتا تو پہلے تمام
غریبوں نادار صحابہ کو پلاتے آخر میں خود
نوش فرماتے۔
Dawateislami