حضور نبی کریم ﷺ کی غریب، نادار اور کمزور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اور شفقت اسلامی تعلیمات کا ایک روشن ترین پہلو ہے، آپ ﷺ کی ان صحابہ سے محبت کی چند نمایاں جھلکیاں درج ذیل ہیں:

اصحاب صفہ کی نگہداشت: مسجد نبوی کے چبوترے پر رہنے والے غریب اور بے سہارا صحابہ، جنہیں اصحاب صفہ کہا جاتا ہے، ان کا خصوصی خیال رکھا جاتا تھا۔ حضور ﷺ خود ان کے پاس تشریف لاتے، ان کے ساتھ بیٹھتے اور ان کی ضروریات پوری فرماتے۔

صحابہ سے دلی انسیت: آپ ﷺ نے ہمیشہ غریبوں کو گلے لگایا۔ حضرت سلمان فارسی، حضرت بلال حبشی اور حضرت صہیب رومی جیسے غلامی سے آزاد ہونے والے اور نادار صحابہ کو آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کی طرح مقام اور عزت بخشی۔

مالداروں کو نصیحت: آپ ﷺ نے معاشرے میں غریبوں کو کمتر سمجھنے والوں کی سختی سے سرزنش کی۔

آقا کریم حضرت محمد ﷺ کی غریب صحابہ سے محبت اور ان کی دلجوئی کا ایک نہایت خوبصورت اور ایمان افروز واقعہ ملاحظہ فرمائیں: چنانچہ حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے ایک نہایت غریب، نادار اور ظاہری طور پر کمخوار صحابی تھے، جن کا معاشرے میں کوئی بڑا نام یا خاندان نہ تھا۔ ان کی غریب الوطنی اور سادگی کی وجہ سے کوئی ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کو تیار نہیں تھا، لیکن پیارے آقا ﷺ کو ان کی اتنی فکر تھی کہ آپ ﷺ خود ان کے لیے رشتہ تلاش فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے خود ایک انصاری صحابی کے گھر تشریف لے جا کر ان کی بیٹی کا رشتہ حضرت جلیبیب کے لیے مانگا۔

لڑکی کے والدین پہلے ہچکچائے، مگر اس خوش نصیب لڑکی نے کہا: کیا تم رسول اللہ ﷺ کی تجویز کو رد کرتے ہو؟ مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔ شادی کے کچھ ہی دن بعد ایک غزوہ پیش آیا، جس میں حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ جنگ کے بعد جب حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا تمہارا کوئی بندہ گم ہے؟ تو لوگوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام لیے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: لیکن میں جلیبیب کو گم پا رہا ہوں، انہیں تلاش کرو۔ جب ان کی لاش ملی تو انہوں نے اپنے اردگرد کئی کافروں کو مارا ہوا تھا۔ پیارے آقا ﷺ ان کی لاش کے پاس تشریف لائے، انہیں اپنی مبارک گود (آغوش) میں لیا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کی قبر کھودنے تک انہیں تھامے رکھا۔ آپ ﷺ نے محبت سے تین بار فرمایا: یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔

ایک دیہاتی صحابی سے انداز محبت: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: حضور نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی صحابی حضرت زاہر رضی اللہ عنہ جب بھی آتے تو ہدیہ لے کر آتے اور حضور نبی کریم ﷺ بھی واپسی پر ان کو کچھ نہ کچھ عنایت ضرور کرتے تھے۔ حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: زاہر ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں،نیز آپ انہیں بے حد عزیز رکھتے تھے۔

حضرت زاہر رضی اللہ عنہ بظاہر خوبصورت نہ تھے،لیکن ایک دن وہ بازار میں اپنا کچھ سامان فروخت کر رہے تھے کہ حضور ﷺ نے پیچھے سے جا کرانھیں گود میں اٹھا لیا،وہ آپ کو نہ دیکھ سکے اور کہنے لگے:کون ہے؟مجھے چھوڑو!پھر جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو آپ کے سینۂ مبارک سے چمٹ گئے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے اعلان کرنا شروع کیا کہ کون ہے جو اس غلام کوخریدے گا؟ حضرت زاہر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!آپ کو میرے بدلے کچھ نہیں ملے گا!حضور اکرم ﷺ نے مسکرا کر فرمایا:اللہ پاک کے نزدیک تیری بڑی قیمت ہے۔

ان تمام احادیث سے پتا چلا کہ حضور ﷺ اپنے غریب و نادار صحابہ سے کس قدر محبت و شفقت فرمایا کرتے تھے۔

اللہ پاک ہم سب کو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے۔

کیوں نہ ہو رتبہ بڑا اصحاب و اہل بیت کا

ہے خدائے مصطفےٰ، اصحاب و اہل بیت کا